Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Islamic

یمن کے گورنر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

یمن کے گورنر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب اہل یمن نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ آپ ایک ایسا آدمی بھیج دیجئے جو صرف امیر ہی نہ ہو، بلکہ معلّم بھی ہو، تو اس موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرمبارک معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر پڑی، چنانچہ آپ نے ان کو اشارہ کرکے بلایا اور کہا کہ اے معاذ! تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، پھر آپ نے تبلیغ سے متعلق کچھ نصیحتیں فرمائی اور ان کو وہاں کا گورنر مقرر فرمادیا اور کہا کہ اے معاذ! واپسی میں شاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے آنسو بہہ پڑے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی آنسو شدت محبت کی وجہ سے بہہ پڑے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر تھے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل کر نصیحت بلکہ وصیت فرمارہے تھے، اے معاذ! لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، مشکلات پیدا نہ کرنا، انہیں خوشی ومسرت کا پیغام سنانا، ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے انہیں دین سے نفرت ہوجائے۔ اس سفر کا منظر بھی عجیب تھا کہ ...

- یہ چراغ جیسے لمحے یونہی گذر نہ جائیں -

- یہ چراغ جیسے لمحے یونہی گذر نہ جائیں  روزه اسلام كي ايک فرض عبادت بهي هے اور خوش بختوں کے لئے سعادت بهی تقوی ورضا الہی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے اور بندہ کو رب سے قریب کرنے کا وسیلہ بهی ، نفس کی پاکیزگی وطہارت کا ایک قیمتی نسخہ بهی ہے اور خواہشات وشہوات سے حفاظت کاہتهیار بهی ، گناہ ومعصیت کے لئے کفارہ بهی ہے اور عذاب جہنم سے بچاو کے لئے ڈهال بهی ، اخلاق وکردار کو سنوارنے کا ایک انمول آلہ بهی ہے اور سعادت دارین کے حصول کا باعث بهی ، غیض وغضب کے فساد سے حفاظت کا ضامن بهی هے اور زهد و ورع وفکر آخرت کا داعی بهی روزہ اسلام کے پانچ بنیادی فرائض ميں سے ایک اہم فرض ہے  (صحیح بخاری ومسلم)  ماه رمضان شروع ہوتے ہی جنت کے دروازے کهول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے (صحیح بخاری ومسلم)  روزه کا اجر بے حساب ہے ، آدمی کے ہر ایک نیک عمل کا ثواب دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑها کر دیا جاتا ہے لیکن روزے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے کی یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا ، روزہ دار اپنی ساری خواہشات اور ک...

اے غلام! تو نے ہمیں اللہ کی بندگی سکھا دی

خواجہ حسن بصری رحمة اللہ تعالٰی علیہ نے بصرہ میں ایک غلام خریدا، وہ غلام بھی ولی اللہ، صاحبِ نسبت اور تہجد گذار تھا- حضرت حسن بصری نے اس سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا، مالک جس نام سے چاہے پکارے، آپ نے فرمایا اے غلام! تجھ کو کیسا لباس پسند ہے؟ اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا جو مالک پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے، پھر انہوں نے پوچھا کہ اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟ غلام نے کہا کہ حضور غلاموں کا کوئی کھانا نہیں ہوتا جو مالک کھلا دے وہی اس کا کھانا ہوتا ہے۔ خواجہ حسن بصری چیخ مار کر بیہوش ہوگئے، جب ہوش میں آئے تو فرمایا اے غلام! میں تجھ کو آزاد کرتا ہوں ، میں نے تجھے پیسے سے خریدا تھا مگر اب تجھ کو پیسہ نہیں دینا ہے، میں تجھ کو مفت میں آزاد کرتا ہوں، غلام نے پوچھا کہ کس نعمت کے بدلے میں آپ مجھ کو آزاد کررہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم نے ہم کو اللہ کی بندگی سکھا دی، تم ایسے غلام ہو کہ اگر مجھے میرا پیسہ دے دیتے تو غلامی کے طوق سے آزاد ہوسکتے تھے لیکن ہم اللہ کے ایسے غلام ہی...

تاریخی فیصلہ

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔ “کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔” یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھرجوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کایہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔ اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین کی مٹھی بھر فوج کے ساتھ ملک شام کے دارالسلطنت دمشق کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دن پر دن گزرتے جا رہے تھے مگر قلعہ تھا کہ کسی طور فتح ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ...

THE EXCELLENCE OF QUR'AN

Umar bin Al Khattab r.a. used to weep on recalling his early youth. Some one asked him : O leaders of the Believers ! What's the matter ?. He replied : When I was a young man my father used to worry and reprimand me." Umar ! How will you manage your life, if you can't even look after a flock of sheep? Umar r.a. continued : After embracing the Qur'an, Umar is looking after the administration of entire Islamic land ! This is the excellence of Qur'an. It brings the best out of you. Those who study the Qur'an and its Tafseer and implement them in their lives, need no workshops in management, human relations, Personality development..... If the Qur'an can raise an unlettered community from its ebb into the highest tide and place them in the ranks of best Rulers, Warriors, Crises fighters, Ambassadors, Donors .. in an age without Internet or even telegraph , why cannot it upgrade us the educated ones in this age of information and quick communication ? Con...

حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا

”اے میرے مالک اگر میں دوزخ کے ڈر سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے دوذخ میں پھینک دے۔ اگر میں جنت کی خاطر تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے جنت سے محروم کر دے لیکن اگر میں صرف تیر ی ہی خاطر تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھ کو تو اپنے دیدارسے محروم نہ کرے۔“ مندرجہ بالا بیان کردہ دعا سے آپ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کی اپنے رب سے محبت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔عالم اسلام کی اس نامور خاتون کو اپنے اور اپنے خالق کے درمیان کسی قسم کے لالچ یا خوف کی موجودگی گوارانہ تھی۔ اس سے آپ ان کی عظمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کا شمار دوسری صدی ہجری کی شہرہ آفاق عارفات میں ہوتا ہے۔ آپ دو روایات کے مطابق 95 ہجری یا 99 ہجری میں عراق کے شہر بصرہ کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد کا نام اسماعیل تھا۔ آپ اپنے والد کی چوتھی بیٹی تھیں۔ اسی لئے ان کا نام رابعہ مشہور ہو گیا۔ ابھی وہ لم سنی میں تھیں کہ کسی بردہ فروش نے ان کو اغوا کرکے غلامو ں کی منڈی میں فروخت کر دیا۔ غلامی کی حالت میں ہی آپ پلی بڑھیں۔ اپنے مالک کے گھر کام کرنے کے بعد باقی وقت میں وہ اپنے اللہ کی عبادت کرتیں۔ ان کے مال...

حضرت عمر بن خطاب رضیاللہ عنہ

خلافت راشدہ کے دوسر ے تاجدار اسالامی تاریخ کی اولوالعزم، عبقری شخصیت ،خُسر رسول ۖ داماد علی المرتضیٰ ، رسالت کے انتہائی قریبی رفیق ، خلافت اسلامیہ کے تاجدار ثانی جن کا مشہور قول ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کُتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا اس قدر خوف خدا رکھنے والا راتوں کو جاگ کر رعایا کی خدمت اور جس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی تائید میں سورئہ نور کی آیات مبارکہ کا نازل ہونا جس نے اپنی آمد پر مدینہ کی گلیوں میں اعلان کیا ۔کوئی ہے جس نے بچوں کو یتیم کرانا ہو ، بیوی کو بیوہ کرانا ہو ، ماں باپ کی کمر جھکانا ہو ، آنکھوں کا نورگُم کرانا ہو ،آئے عمر نے محمد رسول اللہ ۖ کی غلامی کا دعویٰ کر لیا ہے آج سے اعلانیہ اذان اور نماز ہوا کرے گی ۔ یہ وہ خلیفہ ثانی ہیں جنہیں اپنی مرضی سے نہ بولنے والے پیغمبر خداۖ نے غلاف کعبہ پکڑ کر دُعا مانگی تھی اے اللہ مجھے عمر بن خطاب عطا فرما دے یا عمرو بن ہشام ۔دعائے رسول کے بعد عمر بن خطاب تلوار گردن میں لٹکائے ہاتھ بندھے سیدھے دروازہ رسول ۖ پر پہنچے صحابہ کرام نے جب یہ آنے کی کیفیت دیکھی تو بارگاہ رسالت میں دست بستہ عرض کی یا رسول اللہ ۖ...

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

ایک دن  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ کا دل کسی میٹھی چیز کھانے کو چاہا۔ آپ نے اپنی زوجہ سے پوچھا، کیا کوئی میٹھی چیز ہے؟ انہوں نے جواب دیا .بیت المال سے جو کچھ آتا ہے اس میں میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ چند دن بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ دسترخوان پر کھانے کے ساتھ حلوہ بھی موجود ہے۔ آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے پوچھا آج یہ حلوہ کیسے بن گیا؟ آپ کی زوجہ محترمہ نے فرمایا میں نے محسوس کیا کہ آپ کو میٹھی چیز کی خواھش ھے تو میں نے یوں کیا کہ جتنا آٹا ر وزانہ آتا تھا اس میں سے مٹھی بھر آٹا الگ رکھتی تھی۔ آج اتنا آٹا جمع ھو گیا کہ اس کے بدلے میں نے بازار سے کجھور کا شیرہ منگوایا اور اس طرح یہ حلوہ تیار کیا۔ آپ نے حلوہ تناول فرمایا۔ کھانے کے بعد آپ سیدھے بیت المال کے مہتمم کے پاس پہنچے اور فرمایا۔ ھمارے ھاں راشن میں جس قدر آٹا جاتا ھے آج سے اس میں سے ایک مٹھی کم کردینا۔ کیونکہ ھفتہ بھر کے تجربے نے بتایا ھے کہ ھمارا گزارہ مٹھی بھر کم آٹے میں بھی ھو جاتا ھے۔ از :حیات الصحابہ

ایسا ما لک تمہیں کہیں نہیں ملے گا

ایک بادشاہ کا غلام گھو ڑے پر سوار غرور کے عالم میں چلا آرہا تھا ۔ سامنے ایک بزرگ آگئے ۔ انہو ں نے اس مغرور غلام سے کہا : یہ اکڑ خانی تو اچھی نہیں ۔ غلام نے اور زیادہ اکڑ سے کہا ۔ ” میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں “ اور وہ بادشاہ مجھ پر بہت بھروسہ کرتا ہے جب وہ سوتا ہے تو میں اس کی حفاظت کرتا ہوں۔ جب اسے بھو ک لگتی ہے تو میں اسے کھانا دیتا ہو ں ۔ کوئی حکم دیتا ہے تو فوراً بجا لاتا ہوں ۔“ اس پر بزرگ نے پوچھا اور جب تم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو ؟ غلا م نے جوا ب دیا۔ ” اس صورت میں مجھے کو ڑے لگتے ہیں۔ “ اس پر بزر گ بولے ۔ ” تب تم سے زیادہ مجھے اکڑنا چاہیے ۔“ غلا م نے حیران ہو کر پو چھا۔ وہ کیسے ؟ بزر گ بو لے۔ میں ایسے با دشا ہ کا غلام ہو ں کہ جب میں بھو کا ہوتا ہو ں تو وہ مجھے کھلاتا ہے ۔ جب میں بیمار ہوتا ہوں وہ مجھے شفا دیتا ہے ۔ جب میں سوتا ہوں تو وہ ہر طرح میری حفاظت کرتا ہے ۔ “ جب مجھ سے غلطی ہوجائے اور میں اس سے معافی مانگ لوں تو بغیر کوئی سزا دئیے اپنی رحمت و مہربانی سے مجھے بخش دیتا ہے ۔ یہ سن کر ا س مغرور غلام نے کہا تب تو مجھے بھی اس کا غلام بنا دیں ۔ بزرگ فوراً بولے ۔ بس ...

WOMEN IN ISLAM " ARE WE OPPRESSED?"

They say Muslim women are  oppressed.  Let's find the fact. And those  who are calling for the freedom of women,and those who call for equality,and who beg to free Muslim women. But free her from what? They want to free her from her Dignity of course, Free her from the clothes she wears, Free her from the pride that she has, They want to free her and make her invaluable. They want her to be looked by every passerby. But remember dear sisters "How good you look is not what you have inside, its just what you have outside". It's a superficial short lived, a measuring stick that is judged by a human being. Your a slave to a man who tells you what to do?, what not to do?, what to wear? what not to wear? Is this the freedom the society wants the sisters to have???? Decide sisters do you want such freedom ? OR Do you want to please Allah SWT? A man that doesn't care, who you are, where you go, you're gonna ...