Skip to main content

Posts

Showing posts with the label ایکسپریس اردو

ایمنسٹی کا احد تمیمی کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ

تل ابيب:  انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قابض اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطین کی بہادر لڑکی احد تمیمی کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایمنسٹی انٹرنیشنل  برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا  میگڈالینا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایک نہتی لڑکی کو مسلسل حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں اس لیے اسرائیل بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر احد تمیمی کو رہا کرے۔ ایک غیر مسلح لڑکی  پر دو اسلحہ بردار اسرائیلی فوجیوں پر حملے کا الزام عائد کرکے 10 سے زائد چارجز لگانا  کسی طور مناسب نہیں جب کہ ویڈیو میں صاف واضح ہے کہ ایک نہتی لڑکی فوجیوں کے لیے حقیقی خطرہ نہیں تھی اور ان حقائق کے باوجود نوعمر لڑکی کو قید و صعوبت کی سزا دینا وحشیانہ عمل ہے۔ یہ خبر بھی پڑھیں:  قابض اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے والی بہادر فلسطینی لڑکی پر فرد جرم عائد ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ احد تمیمی  کی گرفتاری اور اس کے خلاف فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات نے اسرائیلی حکام کو بے نقاب کردیا کہ  کس طرح مقبوضہ علاقوں میں قابض فوجی فلس...

جو کام کر رہا ہے

میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قائل ہوتا جا رہا ہوں ہمارے ملک میں جو شخص کام کرے گا اسے گالی ضرور پڑے گی‘ وہ برا ضرور کہلائے گا‘ میرے ایک دوست معاشرے کی اس روش کو اپنی کہانی سمجھتے ہیں‘ وہ بتاتے ہیں میں جوان ہوا تو والد نے کام چھوڑ دیا‘ گھر کی ساری ذمے داری میرے کندھوں پر آگئی‘ میں نے اپنے بہن بھائی بھی پالے‘ ان کی شادیاں بھی کیں اور ان کو کاروبار بھی سیٹ کر کے دیے لیکن میں اس کے باوجود سب کی نظروں میں برا ہوں‘ میرے دوست مثال دیا کرتے ہیں ’’میں بچپن میں گھر کا سودا سلف لایا کرتا تھا جب کہ میرے بھائی سارا سارا دن چارپائیاں توڑتے رہتے تھے‘ میرے لائے سودے میں اگر کوئی ٹماٹر‘ اگر کوئی پیاز گندہ نکل آتا تھا تو میں ماں باپ کی جھڑکیاں بھی کھاتا تھا اور میرے وہ بھائی بھی میرا مذاق اڑاتے تھے جنہوں نے کبھی مجھے تھیلا تک نہیں پکڑایا تھا‘ میں سات سال کی عمر میں پورے گھر کا سودا سر پر اٹھا کر لاتا تھا اور آخر میں جھڑکیاں بھی کھاتا تھا‘ میرے بھائی آج بھی مجھے کہتے ہیںآپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟‘‘۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے‘ ہمیں چوپڑی بھی چاہئیں‘ دو دو بھی چاہئیں اور آخر میں ہمیں دینے والے کی جی بھر کر بے...

روایتی سیاست کو بدلاجاسکتا ہے

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کی تیاریاں کررہی ہیں۔ یہ وہی سیاسی جماعتیں ہیں جو عشروں سے انتخابات لڑتی آرہی ہیں،اس فرق کے ساتھ کہ ماضی میں ان کے آبا انتخابات میں حصہ لیتے تھے اور کامیاب ہوجاتے تھے اب وہ اپنے آباواجداد کی جگہ خود انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ چونکہ ہمارا انتخابی نظام طاقت اور دولت کے چہروں پر کھڑا ہے اور اس ملک کے 20 کروڑ عوام طاقت اور دولت سے محروم ہیں لہٰذا وہ انتخابات جیتنے کے بارے میں بھلا کیا سوچ سکتے ہیں۔ وہ انتخابات لڑنے ہی کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ یہ نظام 70 سال سے ہماری سیاست کا حصہ بنا ہوا ہے لہٰذا اس موروثی نظام کو ہمارے سیاست دان جمہوری نظام کا نام دے کرعوام کو مستقل دھوکا دیتے آرہے ہیں اور اگر 2018 میں انتخابات ہوئے تو طاقت اور دولت کے مالک ہی ملک کے مالک بن جائیںگے۔ اربوں روپوں کے خرچ سے جو انتخابات سجائے جاتے ہیں اس کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہماری سیاسی روایات کا حصہ ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دھاندلی سو فی صد نہیں ہوتی ووٹروں کی بڑی تعداد ایماندارانہ ووٹ ڈالتی ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہوتا یعنی عو...

نظریاتی شناخت

جنرل الیکشن کی آمد کا اعلان سیاسی پارٹیوں کے جلسوں کی صورت میں ہو چکا ہے، حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اپنے ابتدائی جلسوں میں صرف اپنے کارکنوںکو متحرک کرتے ہی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ ابھی تک کسی بھی پارٹی نے آیندہ الیکشن کے لیے اپنی پارٹی کے منشور کا اعلان نہیں کیااور نہ ہی حکومتی پارٹی نے اپنے سابقہ منشور کو پورا کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی دعویٰ کیا ہے سوائے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کے بارے میں شکوک و شبہات ہی پائے جا رہے ہیں کیونکہ حقیقی صورتحال کچھ مختلف ہے، بہر حال اس کے بارے میںاصل پتہ تو آیندہ گرمیوںمیں چلے گا جب گرمی بھی ہو گی الیکشن کی مہم بھی چل رہی ہو گی اور حکومت عوام کے روبرو ہو گی اس لیے بجلی کے متعلق تبصرے کو فی الحال چند ماہ کے لیے موخر کرتے ہیں اور ذکر ان سیاسی کارکنوں کا جن کے دم قدم سے سیاست کی رونقیں ہیں اور جن کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں کے دفاتر آباد رہتے ہیں ۔سیاسی لیڈروں ار سیاسی کارکنوں سے میرا عمر بھر کا رابطہ رہاہے، اچھے وقتوں میں سیاسی کارکنوںکی ایک بڑی تعداد ہوا کرتی تھی، وہ مالی قربانیوں کے علاوہ جانی قربانیاں بھی دیا کرتے تھے، اپن...

ظفر عارف مر گئے پر سوال زندہ ہے!

چونکہ میں اس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھا لہذا سینئرز کی نصیحت تھی کہ حسن ظفر عارف جیسے ملحد کیمونسٹ اساتذہ سے دور رہو۔میں نے یہ نصیحت پلے باندھ لی اور کبھی بھی ان کے قریب نہیں پھٹکا مبادا میرے نظریہِ پاکستان میں کوئی کجی آ جائے۔ویسے بھی ڈاکٹر ظفر عارف کی آنکھیں باز کی طرح دبیز تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ وہ سرخ نظریاتی آسمان پر مسلسل اڑتے ہوئے ادھرِ اًدھر دیکھتے رہتے ہیں اور معصوم و بے ضرر نئی نسل جہاں بھی نظریاتی کنفیوژن کا شکار دکھائی دے جپھٹا مار کے پنجوں میں دبا لے جاتے ہیں اور پھر ان لڑکے لڑکیوں کو اپنی گفتگو کے راتب سے کچھ ایسے رام کرتے ہیں کہ وہ اس باز نما انسان کے آلے دوالے ہی ہو کے رہ جاتے ہیں۔ میں گواہ ہوں کہ ڈاکٹر ظفر عارف نے اپنے کچھڑی بال بکھرا کر جینز کی ایک سائیڈ سے بوہمین انداز میں قمیض نکال کر یونیورسٹی میں بندگلے کی شیروانی اور تھری پیس سوٹنگ کی استادانہ ثقافت پر ’’ شبخون ’’ مارا۔حسرت ہی رہی کہ ظفر عارف کبھی تو ’’شرفا’’ جیسے لباس یافتہ استاد نظر آتے۔انھیں کلاس میں پاٹ دار آواز میں لیکچر دینے کے بعد بھی چین نہیں پڑتا تھا۔اکثر کراچی یونیورسٹی کے کیفے ڈ...

ایک اور انسانیت سوز سانحہ

سانحہ قصور نے انسانی ضمیرکو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سچ پوچھیے تو یہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ان مٹ ٹیکہ ہے۔ اس کی مذمت کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ سب سے زیادہ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سانحہ اس ملک میں رونما ہوا ہے جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے اور جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ میں جب بھی زینب بیٹی کی تصویر کو میڈیا پر دیکھتا ہوں میرے دل کی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ پھول تو دو دن بہار ِ جاں فزا دکھلا گئے حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھلے مرجھا گئے جب کبھی کسی بچے کے ساتھ زیادتی کی خبر آتی ہے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کوئی انسان اتنا سفاک اور شیطان صفت بھی ہوسکتا ہے کہ کسی معصوم کے ساتھ درندوں سے بھی بد تر سلوک کرے۔ انتہائی شرم کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اس قسم کے واقعات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں ۔ اسلام میں بچوں کی بڑی حرمت ہے۔ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے کہ ’’اپنے بچوں کا احترام کرو اور انھیں اچھی تربیت دو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عظیم سے نوازے۔‘‘ سات سالہ معصوم زینب کے ساتھ جو انسانیت سوز بدسلوکی ہوئی وہ ہماری معاشرتی پستی کی انتہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا...

عدالتی نظام میں اصلاح کے حوالے سے چند گزارشات

یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کو مقدمات میں بے جا تاخیر کا احساس ہو گیا ہے۔ محترم چیف جسٹس کافی متحرک نظرا ٓرہے ہیں۔ انھوں نے اتوار والے دن بھی مقدمات کی سماعت کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال ایسی ہے کہ چھٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ایک طرف مجھے چیف جسٹس کے اتوار والے دن کام کرنی کی خوشی تھی لیکن دوسری طرف پیر والے دن خیبر پختونخواہ کی عدالتوں میں وکلا نے قصور کی زینب کے لیے بائیکاٹ کر دیا ۔ ان کے اس بائیکاٹ کی و جہ سے ہزاروں مقدمات سماعت سے محروم ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی ایک چیف جسٹس تھے جنہوںنے کراچی میں ہی عید والے دن مقدمات کی سماعت کی تھی۔ لیکن ماضی گواہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کے ایسا کرنے سے ایک اچھی روائت تو قائم ہو جاتی ہے لیکن بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ پتہ نہیں کیوںلیکن باقی ججز اس کی پیروی نہیں کرتے۔ اور اس کا نیچے تک اثر نہیں آتا۔ وکلا کی ہڑتالیں بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس کی پارلیمنٹ سے ناراضی میں وزن ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے عدالتی نظام میں اصلاحات اور جلد از جلد انصاف کے حصول کے لیے قانون سازی نہیں کی ہے۔ لیکن عدلیہ کو اپنا گھر بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہ...

عوامی، معاشی اور فوجی دفاع (دوسرا حصہ)

وائسرائے لارڈ میو کے نام پر اجمیر میں میو کالج ،لاہور میں میو اسپتال اور غلام انڈیا میں ریاستوں، صوبوں میں رؤسا یا جاگیرداروں کی اولادوں کے لیے ’’چیفس کالج‘‘ قائم کیے گئے۔ جہاں جاگیرداروں کے بیٹوں کو اپنی اپنی ریاستوں میں عوام پر حکمرانی کے گُر سکھائے جاتے تھے اور 1857 کی جنگ آزادی کے نتیجے میں انگریزوں نے مسلمانوں کو بری طرح نظرانداز کرنا شروع کردیا تھا اور ہندوؤں کو نوازنہ شروع کردیا تھا ۔ اسی کے مدنظر سرسید احمد خان کافی متحرک ہوگئے۔ مسلمانوں کے لیے علیحدہ اسکول،کالج قائم کرنے شروع کردیے تھے۔1857 میں سرسید نے علی گڑھ میں کالج قائم کیا جو بعد میں یونیورسٹی کے درجے پر پہنچا ۔ انگریز مسلسل توسیع پسندانہ عزائم پر کار بند تھے۔ لارڈ ڈفرن 1884 سے 1888 کے دور میں 1886 میں (برما) شمالی میانمارکو برٹش برما میں شامل کیا اسی دور میں اس کی بیوی کے نام پر غلام انڈیا کے مختلف شہروں میں لیڈی ڈفرن اسپتال قائم کیے۔ کراچی میں بھی لیڈی ڈفرن اور ہولی فیملی اسپتال بنایا گیا۔ انگریزوں نے اپنی سرپرستی میں انگریزی اے۔او۔ہیوم کی تجویز پر ’’انڈین نیشنل کانگریس‘‘ 1883 میں قائم کی تھی۔ قائد اعظم نے کانگریس می...

صرف پنجاب۔ باقی کہاں ہیں؟

میڈیا میں روزانہ ہی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے صوبے بھر میں مارے جانے والے چھاپوں اور مضر صحت اشیائے خوردنی کی برآمدگی اور اسے تلف کرنے کی خبریں شایع ہورہی ہیں اور ثبوت کے طور پر ٹی وی چینلز پر اس کی فوٹیج دکھائی جارہی ہیں۔ کئی سالوں سے ملک بھر میں میٹرو بسوں کی خبریں عوام کو سننے کو مل رہی ہیں۔ تعلیمی اور صحت کے میدان یا اپنے عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے عملی اقدامات صرف پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ سب صرف پنجاب تک محدود کیوں ہیں اور دوسرے صوبوں میں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟ یہ بھی درست ہے کہ چالیس سال قبل سیاسی طور پر ابھرنے والے شریف خاندان کا تعلق لاہور اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہے تو چار بار ملک پر اور پانچ بار سندھ پر حکومت کرنے مگر لاہور سے جنم لے کر اپنی گولڈن جوبلی منانے والی پیپلزپارٹی کی قیادت کا تعلق بھی 1970 سے سندھ سے ہی چلا آرہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو 5 سال ملک کے وزیراعظم رہے پھر ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو تقریباً چار سال دو بار ملک کی وزیراعظم رہیں۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بے نظیر بھٹو اور ان کے بچے پیدا ہو...

سچ کا تلخ گھونٹ

چند ماہ پیشتر ایک ٹوئیٹر پیغام نے تہلکہ مچادیا۔ یہ پیغام کسی  عام سی عورت نے نہیں بلکہ ایک معروف امریکی اداکارہ ایلسا میلانو کا تھا جس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو انتہائی بہادری کے ساتھ لوگوں کے ساتھ شیئر کیا یہ ایک ایسا پیغام تھا جس نے لاکھوں، کروڑوں خواتین کے اندر اس بزدل انسان کو مضبوط بنادیا جو اپنے ساتھ ہونے والے بد نما واقعات کو دوسروں سے تو کیا اپنے خاندان تک کے ساتھ شیئر کرتے شرم محسوس کرتی تھیں۔ اکتوبر میں چلنے والی اس طاقت ور تحریک نے مغرب سے لے کر مشرق تک میں بسنے والی خواتین، لڑکیوں اور بچیوں میں بہادری سے اس گھناؤنے جرم کو دنیا کے ساتھ بنانے اور اسے بدنما کرداروں کو سامنے لانے کی ہمت دی ہے جو بظاہر ہمارے سامنے ایک اچھے، محترم اور دوست نما ہوتے ہیں لیکن در اصل ان کے اندر ایک ایسا شیطان چھپا بیٹھا ہے جو ان سے ایسے گھناؤنے جرائم کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ امیر امریکی پروڈیوسر ہاروے وائنسٹن کوگزشتہ تیس بتیس سال تک کوئی نہ جان سکا کہ وہ بڑے بڑے فلمی اداروں کی آڑ میں اپنے ناپاک مذموم مقاصد کی خاطر شوبزکی دنیا میں قدم رکھنے والی معصوم جذباتی لڑکیوں کو استعمال ک...

سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مشورہ

عوامی خدمت کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی عموماً سخت تنقید کا نشانہ بنتی ہے، عوام کی خاصی بڑی تعداد بھی اس حوالے سے مختلف جماعتوں سے سخت نالاں دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال کی بہت سی وجوہات ہیں، تاہم دو وجوہات ان میں سرفہرست ہیں، ایک منتخب نمایندوں کا کرپشن کرنا اور دوسری اہم ترین وجہ ’’نان ایشوز‘‘ کی سیاست کرکے وقت ضایع کرنا۔ نان ایشوز سے مراد ایسے مسائل کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دے کر تمام طاقت صرف کردینا جوکہ عوام کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے یا ان مسائل کے حل سے عوام کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی ہو۔ مثلاً ہماری بعض جماعتوں نے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کردیے کہ گویا اس مسئلے کے حل ہی سے صوبے کے عوام کو بہت کچھ حاصل ہوجائے گا، کچھ جماعتوں نے کالا باغ ڈیم کا ایشو اس طرح سے پکڑ لیا کہ شاید اس سے بڑا عوامی مسئلہ ہی کوئی اور نہیں، حالانکہ پانی کی تقسیم پر جب پڑوسی ملک سے معاملات و معاہدات طے پاسکتے ہیں تو اس مسئلے پر بھی پاکستان کے صوبوں کے درمیان معاملات طے ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر مخالف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے اسکینڈل کو بھی ...

روشنی ضرور آئے گی

پاکستان میں ایک ایسی قوم آباد ہے جو قائداعظم کو مانتی ہے مگر قائد اعظم کی نہیں مانتی ۔ آپ کہیں گے کہ نہیں وہ تو قائد اعظم کو پرس میں سجا کر رکھتے ہیں۔ جی ہاں مگر ملکہ برطانیہ کی تصویر اگر ایک انگریز جیب میں رکھتا ہے تو وہ اس کو بہت احتیاط سے رکھتے ہیں کتھے چونے اور حساب کتاب سے اسے محفوظ رکھتے ہیں،  آپ کی یہ بات بہرحال ٹھیک ہے کہ وہ کارکا گٹکا بناتے ہیں کھانے والا گٹکا اور مین پوری وغیرہ سے ناواقف ہیں۔ بات تھی قائد اعظم کی مگر نوٹوں پر قائد اعظم کی تصویر اور نوٹوں کے سائز اور مالیت کے باوجود ناجائز مال کو گننے میں مشینوں کو بھی کئی دن لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ ’’پلی بارگین‘‘ کا چانس موجود ہے۔ اگر واقعی کام کرنا ہے تو سب سے پہلے اس قانون پلی بارگین کو ختم یا درست کرنا ہوگا۔ جس میں عہدے سے برخاستگی اور سزا دونوں لازم ہوں اور اس کا دائرہ کار ملک سے باہر تک اور تحقیقات 1965 سے شروع کرنی چاہئیں جو دنیا میں نہیں ہیں ان کی بھی حقیقت قوم کو معلوم ہونی چاہیے اور اولاد کو ملا وہ ضبط ہونا چاہیے۔ سیاسی لطیفوں پر ملک چل رہا ہے۔ نااہل سارے اداروں کو للکار رہا ہے۔ سیاست کے میدان میں قدم رکھا ا...

زیادتی اور قتل: مجرم کون؟

آٹھ سالہ معصوم زینب کے ساتھ  زیادتی اور بعد ازاں اس کے بہیمانہ قتل کا جو واقعہ پیش آیا ہے، اس نے ایک بار یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ پاکستانی معاشرہ انسانی اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے کہاں موجود ہے، اگرچہ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار رونما ہوا ہو اور نہ ہی اس گلے سڑے سرمایہ دارانہ سماج  اور عوام کے مسائل کے حوالے سے حکمرانوں کی غیر سنجیدگی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی آخری واقعہ ہوسکتا ہے۔ قصور پولیس کے مطابق تو یہ گزشتہ دو برس میں ہونے والا بارھواں واقعہ ہے۔ تاہم اس واقعے کی گونج اس قدر اونچی سنائی دی ہے کہ دنیا کے تقریباََ تمام ذرایع ابلاغ میں اس واقعے کی خبر کو انتہائی دکھ اور رنج کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔اس واقعے کے نتیجہ میںحکومت اور حکومتی اداروں کے خلاف عام لوگوں کے احتجاج نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ انھی حکام کو اس واقعے کا ذمے دار سمجھتے ہیں اور ان کا شعور قانون، انصاف، سزائوں اور بھیانک جرائم جیسے الفاظ استعمال کرنے والے ’’دانشوروں‘‘ سے زیادہ بلند ہے۔ ذمے دار اس حوالے سے نہیں کہ مجرم کو کٹہرے میں ضرور لایا جائے، بلکہ اس حوالے سے کہ اس قسم کے واقعات...