Skip to main content

Posts

لاہور کے شاہی قلعہ سے ملنے والی توپوں کے متعلق جاننے کے لئے تحقیقات کا آغاز

لاہور:  شاہی قلعہ میں بارودخانہ کی کھدائی کے دوران ملنے والی توپوں کی تاریخ بارے جاننے کے لئے والڈسٹی اتھارٹی کے ماہرین نے تحقیق شروع کردی ہے۔ ان دنوں لاہور کے شاہی قلعہ کے مُختلف حصوں میں بحالی کا کام جاری ہے، شاہی باورچی خانے، بارود خانے اورمثمم دروازے کی بحالی اورکھدائی کے دوران اب تک ڈیڑھ لاکھ کیوبک فٹ ملبہ اور کچرا اٹھایا جاچکا ہے۔ والدسٹی اتھارٹی حکام کے مطابق کھدائی کے دوران انہیں  سکھ دور کی اشیا، زیر زمین راستے کا سُراغ  ملا اورپھر 13 ستمبر کو توپوں کے آثار ملے، مثمم دروازے کی مرمت کے دوران دو توپیں برآمد ہوئیں جن کے بارے میں خیال ظاہرکیا جارہا ہے کہ یہ برطانوی دورمیں استعمال ہوتی رہی ہیں یہ توپیں مزید کُھدائی کرنے پر واضح ہو گئیں۔ زنگ آلود سیاہی مائل لوہے کی بھاری توپوں کے دریافت ہونے کے بعد والڈ سٹی اتھارٹی نے ان کی صفائی کا کام شروع کر دیا ہے۔ والدسٹی اتھارٹی کی ترجمان تانیہ قریشی نے بتایا کہ یہ توپیں بہترین حالت میں ہیں، اسی لئے انہیں بارود خانے، برطانوی دور کے پُل یا جیل کے باہر نصب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہمیں برطانوی دور حکومت کی یاد دلاتی ہ...

قصہ افغان اور بنگالی باشندوں کی شہریت کا۔۔۔

وزیراعظم عمران خان نے افغان اور بنگالی باشندوں کو شہریت دینے کا عندیہ دے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اِن کے پہلے دورۂ کراچی پر کہاں تو یہ توقع تھی کہ وہ کوئی ترقیاتی پیکیج دیں گے، اور کہاں انہوں نے اپنے تئیں مسائل کا یہ حل تجویز کر دیا کہ بعض مبصرین اسے الٹا مسائل میں اضافے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ کراچی میں جرائم کی وجہ بنگلادیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں، جو شناختی کارڈ نہ ملنے کی صورت میں بے روزگار رہتے ہیں اور پھر جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال وفاقی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں تارکین وطن کا تخمینہ 50 لاکھ لگایا، جن میں ظاہر ہے سب سے بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعدادوشمار کے مطابق 14 لاکھ رجسٹرڈ اور سات لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں بنگالی افراد کی تعداد 15 لاکھ ہے، جب کہ بنگالی باشندوں کے نمائندے خواجہ سلمان اپنی برادری کی تعداد 25 لاکھ تک بتاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بہت سے قومی اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو ریاست کی شہر...

بُک شیلف

محمد حسین آزاد، احوال و آثار مصنف: ڈاکٹر محمد صادق صفحات:269 قیمت: 300 روپے ناشر: مجلس ترقی ادب، لاہور اردو ادب کی ترویج اور ترقی میں بہت سی شخصیات نے مختلف ادوار میں اپنے اپنے انداز میں کردار ادا کیا، کچھ نے نثر کو میدان کے طور پر چنا اور کچھ نے شاعری پر توجہ دی، اسی طرح علوم شرقیہ کی بھی ترویج ہوئی۔ مولانا محمد حسین آزاد کا زمانہ یعنی انیسویں صدی بڑی ہی پرآشوب تھی کیونکہ اس دور میں مغل سلطنت کا زوال ہو چکا تھا اور انگریزوں نے پورے برصغیر پر اپنے پنجے پوری طرح گاڑھ لیے تھے۔ مسلمان یوں تو پہلے ہی معتوب تھے کیونکہ انگریزوں نے اقتدار انھی سے چھینا تھا مگر 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بالخصوص مسلمانوں پر دور ابتلا کا آغاز ہوا ۔ مولانا آزاد کے والد مولوی محمد باقر ایک اردو اخبار کے مالک تھے اور ابتدا سے ہی ہر طرح سے مسلمانوں کی حمایت کرتے تھے یوں وہ انگریزوں کی نظر میں کھٹکتے تھے۔ جنگ آزادی کے بعد انھیں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کر کے قید کر لیا گیا اور پھانسی دیدی گئی۔ مولانا آزاد اس دور میں اپنے اخبار میں بطور مدیر منسلک تھے، یوں وہ بھی معتوب ٹھہرے، مگر شومئی قسمت وہ بچ ن...

بڑے شہروں میں پانی کا بحران بدترین شکل اختیارکرنے لگا

یہ 1975ء کی بات ہے جب میں نے شعور سنبھالا۔ تب ہم محلہ سنت نگر،لاہور میں ابا جی (دادا جان) کے ساتھ رہتے تھے۔ انہی دنوں سنت نگر میں ایک ٹیوب ویل لگا جو زمین سے پانی نکالتا۔ یہ پانی محلے کے سبھی گھروں کو فراہم ہوتا۔ یہ پانی اتنا ٹھنڈا اور میٹھا تھا کہ میں آج بھی اس کا شیریں ذائقہ نہیں بُھلا پایا۔ اب مگر کایا پلٹ چکی۔ سنت نگر میں مٹی ملا پانی آتا ہے۔ وجہ یہ کہ زیر زمین موجود پانی کی سطح اتنی نیچے ہوچکی کہ اب ریت و مٹی اس میں شامل ہونے لگی ہے۔ پھر محلے میں پانی بھی پہلے کی طرح وافر دستیاب نہیں، اس کا بہاؤ خاصا کم ہوچکا اور اس کی ’’لوڈ شیڈنگ‘‘ بھی ہوتی ہے۔ لاہور کے اکثر علاقوں کا یہی حال ہے کہ پانی کی کوالٹی معیاری نہیں رہی اور مقدار بھی کم ہوچکی۔لاہور میں پانی کی نایابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں زیر زمین محفوظ پانی ختم ہورہا ہے۔ پچیس سال پہلے چالیس پچاس فٹ گہرائی میں کھدائی کرنے سے پانی مل جاتا تھا۔ آج 800 فٹ کھدائی کرنا پڑے، تو پینے کا صاف پانی دستیاب ہوتا ہے۔ ماہرین آب کا کہنا ہے کہ لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال ڈھائی تا تین فٹ گر رہی ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہ ہیں۔شہرلاہور دریائے...

بلوچستان کا سرسید … پروفیسر فضل حق میر

کوئٹہ میں مارچ کا مہینہ عموماً بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ دسمبر سے فروری تک مسلسل شدید اور اکتا دینے والی سردی کے بعد پت جھڑ سے بے لباس درختوں کو بہار کی آمد پر کھلتے ہلکے سبز نئے پتوں کی پوشاک ملتی ہے تو جو پھلدار درخت ہیں جیسے ناشپاتی، بادام ، خوبانی، آڑو، شفتالو، سینٹ روزہ اور چیری کے درخت سبز پتوں سے پہلے پھولوں اور پھر پھلوں سے لد جاتے ہیں، زمین پر گھاس خود رو سرخ اور پیلے گل لالہ بوئے مادران نامی جڑی بوٹی کے پھولوں کے علاوہ ہر جگہ چنبلی مہکتی ہے تو موسم سر ما پر ہجرت کرنے والے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھی چہکتے، چہچہاتے آمد بہار کا اعلان کرتے واپس آ جاتے ہیں۔ دوسری جانب یکم مارچ ہی سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے، تمام اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ڈھائی مہینے کی طویل تعطیلات کے بعد کھل جاتی ہیں اور طلبا وطالبات نئے یونیفارم پہنے نئی کلاسوں میں آتے ہیں۔ اس موسم میں کو ئٹہ میںمقابلہ ِ گل بھی ہوتا ہے کیونکہ یہاں اس موسم میں پھولو ں سے محبت کرنے والوں کے لان، باغ اور باغیچوں میں ایک سو پچاس سے زیادہ اقسام کے گلاب اور تین سو سے زیادہ  پھولوں کی اقسام ہیں جبکہ اس کے علاوہ بھی خنک م...

آسان اُردو— ہماری قومی مشکل

سوال تو یہ پرانا ہے۔ ابھی سے نہیں، یعنی بہت دن سے یہ مسئلہ چل رہا ہے، اور لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے الجھن کا سبب بنتا رہا ہے، لیکن ہم اس کا کوئی حل نہیں نکال پارہے۔ ان دنوں ایک بار پھر یہ مسئلہ یک بہ یک نئے سرے سے تازہ ہوگیا ہے۔ ذرا دیکھیے تو کہ یہ تازہ بھی کہاں ہوا ہے؟ ہمارے نئے وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب میں۔ بھلا کیسے؟ ایسے کہ وزیرِاعظم صاحب بغیر کسی تیاری کے حلف اٹھانے کھڑے ہوگئے اور صدر صاحب کے حلفیہ کلمات پڑھنے کے باوجود اُن کو ادا کرتے ہوئے دو تین بار لڑکھڑا گئے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اُن کی زبان اردو الفاظ سے چوںکہ پوری طرح مانوس نہیں ہے، اس لیے ان سے عبارت کو دہرانے میں لغزش ہوئی۔ یہ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ گذشتہ پانچ برسوں کوئی دو چار بار نہیں، بلکہ درجنوں ہی دفعہ عوامی جلسوں میں انھیں اردو میں لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے دیکھا اور سنا گیا ہے۔ اور پھر یہ کہ وہ گلابی اردو بھی نہیں بولتے۔ اچھی خاصی، سیدھی اور صاف زبان میں بات کرتے ہیں۔ پھر حلف برداری کی تقریب میں بھلا ایسا کیوں ہوا؟ ظاہر ہے، اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہوگی۔ چلیے اُس پر ذرا بعد میں بات کر...

اسکولوں کی من مانی پر والدین پھر سڑکوں پر آ گئے

کراچی:  نجی اسکولوں کی من مانی اور فیسوں سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر والدین ایک بار پھر سراپا احتجاج بن گئے۔ یونیورسٹی روڈ پرایکسپو سینٹر کے باہر سڑک پر کراچی بھر کے نجی اسکولوں میں تعلیم طالبعلموں کے والدین نے پر امن احتجاجی ریلی نکالی جس میں مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قانون کو عزت دو، اضافی فیس واپس دو اور دیگر نعرے درج تھے، احتجاجی مظاہرے میں طلبا و طالبات سمیت والدین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری کاروائی کا مطالبہ کرنے کی کوشش کی تو  پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روڈ بند کرنے سے روک دیا گیا، اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کے حوالے سے نعرے لگائے جبکہ والدین نے سندھ حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی کر کے انصاف کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے کہا کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں، کراچی کے نجی اسکول مستقل قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز عدالتی حکم کے باوجود وصول شدہ زائد فیسیں واپس نہیں کر رہے اور...