Skip to main content

اسکولوں کی من مانی پر والدین پھر سڑکوں پر آ گئے

کراچی: نجی اسکولوں کی من مانی اور فیسوں سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر والدین ایک بار پھر سراپا احتجاج بن گئے۔

یونیورسٹی روڈ پرایکسپو سینٹر کے باہر سڑک پر کراچی بھر کے نجی اسکولوں میں تعلیم طالبعلموں کے والدین نے پر امن احتجاجی ریلی نکالی جس میں مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قانون کو عزت دو، اضافی فیس واپس دو اور دیگر نعرے درج تھے، احتجاجی مظاہرے میں طلبا و طالبات سمیت والدین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری کاروائی کا مطالبہ کرنے کی کوشش کی تو  پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روڈ بند کرنے سے روک دیا گیا، اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اس موقع پر مظاہرین نے عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کے حوالے سے نعرے لگائے جبکہ والدین نے سندھ حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی کر کے انصاف کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے کہا کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں، کراچی کے نجی اسکول مستقل قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز عدالتی حکم کے باوجود وصول شدہ زائد فیسیں واپس نہیں کر رہے اور اسکولز انتظامیہ فیسیں واپس کرنے سے صاف انکار کر رہی ہے، عدالت نے پرائیویٹ اسکولوں کو فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ نہ کرنے کا پابند کیا ہے لیکن پرائیویٹ اسکول عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کر رہے اور نہ ہی اس حوالے سے متعلقہ محکمہ کوئی کارروائی عمل میں لارہا ہے۔

والدین نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری بھرکم فیسیں ہماری جیبوں پر بھاری تو ہیں ہی ساتھ ہی تعلیم کو پیشہ اور پیسہ بنانے کا سبب بھی بن رہی ہیں والدین نے مطالبہ کیا کہ نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے احتجاج 2 گھنٹے تک جاری رہا۔

واضح رہے کہ 3 ستمبر کو عدالت کی جانب سے فیصلہ آیا تھا کہ سندھ کے تمام نجی اسکول سالانہ 5 فیصد سے زائد فیس نہ بڑھانے کے پابند ہوں گے جبکہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وصول کی گئی اضافی فیس واپس یا آئندہ آنیوالے مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کی جائے۔

The post اسکولوں کی من مانی پر والدین پھر سڑکوں پر آ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2NSgvA6

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...