Skip to main content

Posts

اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور لیبیا جمہوریت کے مزے لے رہا ہے !!

معمر قذافی لیبیا کے "ظالم ڈکٹیٹر" معمر قذافی کے عوام پر ڈھائے جانے والے "مظالم" کی تفصیل ۱۔   لیبیا میں بجلی مفت ہے، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا۔۔ ۲۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔۔ ۳۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔۔ ۴۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی۔۔ ۵۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل ہیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔ ۶۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔۔ ۷۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔۔ ۸۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھ...

یمن کے گورنر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

یمن کے گورنر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب اہل یمن نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ آپ ایک ایسا آدمی بھیج دیجئے جو صرف امیر ہی نہ ہو، بلکہ معلّم بھی ہو، تو اس موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرمبارک معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر پڑی، چنانچہ آپ نے ان کو اشارہ کرکے بلایا اور کہا کہ اے معاذ! تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، پھر آپ نے تبلیغ سے متعلق کچھ نصیحتیں فرمائی اور ان کو وہاں کا گورنر مقرر فرمادیا اور کہا کہ اے معاذ! واپسی میں شاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے آنسو بہہ پڑے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی آنسو شدت محبت کی وجہ سے بہہ پڑے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر تھے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل کر نصیحت بلکہ وصیت فرمارہے تھے، اے معاذ! لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، مشکلات پیدا نہ کرنا، انہیں خوشی ومسرت کا پیغام سنانا، ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے انہیں دین سے نفرت ہوجائے۔ اس سفر کا منظر بھی عجیب تھا کہ ...

- یہ چراغ جیسے لمحے یونہی گذر نہ جائیں -

- یہ چراغ جیسے لمحے یونہی گذر نہ جائیں  روزه اسلام كي ايک فرض عبادت بهي هے اور خوش بختوں کے لئے سعادت بهی تقوی ورضا الہی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے اور بندہ کو رب سے قریب کرنے کا وسیلہ بهی ، نفس کی پاکیزگی وطہارت کا ایک قیمتی نسخہ بهی ہے اور خواہشات وشہوات سے حفاظت کاہتهیار بهی ، گناہ ومعصیت کے لئے کفارہ بهی ہے اور عذاب جہنم سے بچاو کے لئے ڈهال بهی ، اخلاق وکردار کو سنوارنے کا ایک انمول آلہ بهی ہے اور سعادت دارین کے حصول کا باعث بهی ، غیض وغضب کے فساد سے حفاظت کا ضامن بهی هے اور زهد و ورع وفکر آخرت کا داعی بهی روزہ اسلام کے پانچ بنیادی فرائض ميں سے ایک اہم فرض ہے  (صحیح بخاری ومسلم)  ماه رمضان شروع ہوتے ہی جنت کے دروازے کهول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے (صحیح بخاری ومسلم)  روزه کا اجر بے حساب ہے ، آدمی کے ہر ایک نیک عمل کا ثواب دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑها کر دیا جاتا ہے لیکن روزے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے کی یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا ، روزہ دار اپنی ساری خواہشات اور ک...

اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم داﺅد ابراہیم کو واپس نہیں لے آتے

dawood ibrahim نئی دہلی : ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک بار دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک کے پاس داﺅد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد موجود ہیں اور اسے ہر صورت میں واپس لایا جائے گا۔ ہندوستانی چینیل این ڈی ٹی وی کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہے ہمیں پاکستان کے پیچھے لگنا پڑے یا اس پر دباﺅ ڈالنا پڑے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم داﺅد ابراہیم کو واپس نہیں لے آتے۔ ہندوستانی وزیر کے مطابق ہماری حکومت اپنی طاقت کے مطابق سب کچھ کرے گی تاکہ داﺅد ابراہیم کو واپس لایا جاسکے۔ راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں ہندوستان کے ہی وزیر مملکت برائے داخلہ امور ہری بھائی چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ انڈیا کو معلوم نہیں کہ داﺅد ابراہیم کہاں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داﺅد ابراہیم کہاں موجود ہے وہ اب تک پتا نہیں چل سکتا ہے، داﺅد ابراہیم کی ملک واپسی کے حوالے سے اقدامات اسی وقت ہوسکتے ہیں جب معلوم ہوجائے کہ وہاں کہاں ہے۔ مگر آج لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بیان ت...

'اسامہ آئی ایس آئی کی قید میں تھے'

واشنگٹن: امریکا کے ایک تحقیقی صحافی اور مصنف سیمور ایم ہرش کے مطابق امریکا اسامہ بن لادن تک پاکستان کی مدد سے پہنچا تھا، لیکن اس نے اس کارروائی کو اس انداز سے ظاہر کیا کہ پاکستان کو مجرم بنادیا۔ (   ڈان  نیوز ) جب ڈان نے سیمور ایم ہرش سے پوچھا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ امریکا پاکستان کی مدد سے القاعدہ کے رہنما تک پہنچا تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے امریکا کی مکمل مدد کی۔‘‘ لندن ریویو آف بکس میں اتوار کو شایع ہونے والی ایک اسٹوری میں سیمور نے واضح کیا کہ ’’آپریشن نیپچیون‘‘ کے بارے میں امریکا کا سرکاری نکتہ نظر ایک فرضی کام یا پریوں کی داستان کی طرز کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس نے امریکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ مشن تیار کیا اور پاکستانی فوج اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سینئر جنرلوں کو اس چھاپہ مار کارروائی کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں بتایا تھا۔ سیمور ہرش نے لکھا ہے کہ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ تھا کہ پاکستان کے دو سب سے سینئر فوجی رہنماؤں (ریٹائرڈ) جنرل اشفاق پرویز کیانی (جو اس وقت چیف آف آرمی اسٹاف تھے)، اور اس وقت کے ڈائریکٹر جنر...

اے غلام! تو نے ہمیں اللہ کی بندگی سکھا دی

خواجہ حسن بصری رحمة اللہ تعالٰی علیہ نے بصرہ میں ایک غلام خریدا، وہ غلام بھی ولی اللہ، صاحبِ نسبت اور تہجد گذار تھا- حضرت حسن بصری نے اس سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا، مالک جس نام سے چاہے پکارے، آپ نے فرمایا اے غلام! تجھ کو کیسا لباس پسند ہے؟ اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا جو مالک پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے، پھر انہوں نے پوچھا کہ اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟ غلام نے کہا کہ حضور غلاموں کا کوئی کھانا نہیں ہوتا جو مالک کھلا دے وہی اس کا کھانا ہوتا ہے۔ خواجہ حسن بصری چیخ مار کر بیہوش ہوگئے، جب ہوش میں آئے تو فرمایا اے غلام! میں تجھ کو آزاد کرتا ہوں ، میں نے تجھے پیسے سے خریدا تھا مگر اب تجھ کو پیسہ نہیں دینا ہے، میں تجھ کو مفت میں آزاد کرتا ہوں، غلام نے پوچھا کہ کس نعمت کے بدلے میں آپ مجھ کو آزاد کررہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم نے ہم کو اللہ کی بندگی سکھا دی، تم ایسے غلام ہو کہ اگر مجھے میرا پیسہ دے دیتے تو غلامی کے طوق سے آزاد ہوسکتے تھے لیکن ہم اللہ کے ایسے غلام ہی...

یہ تمہاری بیوی ہے

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا” ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”- اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے” یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا ” یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو” اس پر الو اپنے ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا “ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا” طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طر...