Skip to main content

نیپال طیارہ حادثہ؛ خاتون پائلٹ کے پائلٹ شوہر بھی فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے تھے

کھٹمنڈو: نیپال طیارہ حادثہ میں جان کی بازی ہار دینے والی خاتون پائلٹ کے شوہر بھی پائلٹ تھے اور وہ بھی 16 سال قبل اسی طرح کے فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نیپال کی ایئر لائن کمپنی کے ترجمان سدرشن برٹولا نے بتایا کہ خاتون پائلٹ انجو کھٹیواڈا نے 16 سال قبل اپنے شوہر پائلٹ دیپک پوکھرل کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے باعث ملنے والی انشورنس کی رقم سے جہاز اُڑانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

اپنے شوہر کی طرح انجو کھٹیواڈا نے بھی پروفیشنل پائلٹ بننے کا اپنا خواب پورا کیا اور اسی ایئر لائن میں جاب کی جہاں ان کے شوہر بھی جہاز اُڑایا کرتے تھے اور 2006 میں جملا کے مقام پر طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : نیپال طیارہ حادثہ میں ہلاک مسافر کی فیس بک لائیو ویڈیو وائرل

ایئرلائن کمپنی کے ترجمان کے مطابق انجو کھٹیواڈا گزشتہ روز حادثے کا شکار ہوجانے والے طیارے میں بطور معاون پائلٹ موجود تھیں اور ان کے انسٹرکٹر ان کے ہمراہ تھے۔

اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام 72 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 68 کی لاشیں ملی ہیں جب کہ 4 کی تلاش جاری ہے۔ خاتون پائلٹ کی لاش بھی تاحال نہیں مل سکی۔

خیال رہے کہ طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے تاہم اب تک صاف موسم میں لینڈنگ سے محض ایک منٹ قبل گھاٹی میں گر کر تباہ ہونے کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

یہ خبر پڑھیں : نیپال میں مسافر طیارہ گرکر تباہ، 68 افراد ہلاک 

طیارے کے ایک مسافر سونو جیسوال کی فیس بک لائیو ویڈیو بھی وائرل ہوگئی جس میں جہاز کے گرنے اور پھر اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھنے کے مناظر قید ہوگئے۔

واضح رہے کہ ایورسٹ جیسے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ پہاڑوں کے دیس نیپال میں طیاروں یا ہیلی کاپٹرز کے حادثوں میں 2000 سے لے کر اب تک تقریباً 350 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور زیادہ تر کی وجہ تیزی سے بدلتا موسم تھا۔

 

The post نیپال طیارہ حادثہ؛ خاتون پائلٹ کے پائلٹ شوہر بھی فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے تھے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/qKcFSL9

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...