Skip to main content

بھارت میں شاہی عید گاہ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا منصوبہ

آگرہ: بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے متھرا کی عدالت نے بھگوان کرشنا کی جنم بھومی کا جائزہ لینے کے لیے شاہی عیدگاہ مسجد کے سروے کا حکم دیدیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی ہندو تنظیم نے تاریخی شاہی عید گاہ مسجد کو شری کرشنا کی جنم بھومی قرار دیکر مندر بنانے کے لیے 13.37 ایکڑ زمین پر ملکیت کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو 2 جنوری کے بعد شاہی عید گاہ مسجد کا سروے کرنے کا حکم دیا جیسا کہ وارانسی کی تاریخی مسجد ’’گیانواپی‘‘ میں کیا گیا تھا۔

یہ خبر پڑھیں : بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی متھرا کی تاریخی عیدگاہ پرقبضے کی دھمکی 

خیال رہے کہ گیانواپی مسجد کے سروے میں ایک پرانا اور ناکارہ فوارا ملا تھا جسے شیولنگ کہہ کر انتہا پسندوں نے مسجد پر قبضے کے لیے ہنگامہ کھڑا کردیا اور شیولنگ ملنے کی جگہ کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

انتہا پسند ہندو بابری مسجد اور گیانواپی مسجد کے بعد اب یوپی کی شاہی عید گاہ مسجد کی جگہ بھی مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

تاریخی شاہی عید گاہ مسجد ریاست اترپردیش میں آگرہ سے تقریباً 50 کلومیٹر اور دہلی سے 145 کلومیٹر دور شہر متھرا میں واقع ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ بھگوان کرشنا کی جنم بھومی ہے جس پر مغل دور میں قبضہ کرکے مسجد اور عید گاہ تعمیر کی گئی تھی۔

یہ خبر بھی پڑھیں : بھارت ؛ بابری مسجد کے بعد شاہی عید گاہ مسجد پر مندر کی تعمیر کیلیے درخواست دائر

یاد رہے کہ اس سے قبل سماعت میں متھرا کی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ عبادت گاہوں سے متعلق معاملات کا دائرہ اختیار نہیں رکھتی جس پر دوبارہ درخواست دائر کی گئی۔

اس بار میں درخواست کہا گیا تھا کہ اب چونکہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دیا جا چکا ہے اس لیے بھگوان کرشنا کی جنم بھومی یعنی شاہی عید گاہ مسجد پر بھی مندر قائم کیا جائے۔

اس جواز کو مانتے ہوئے متھرا عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیدیا۔

The post بھارت میں شاہی عید گاہ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا منصوبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/Si5pGBK

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...