Skip to main content

گجرات فسادات؛متاثرہ مسلم خاتون نے زیادتی کے مجرموں کی رہائی چیلنج کردی

نئی دہلی: دس سال قبل بھارتی ریاست گجرات میں مسلم فسادات کے دوران جنونی ہندو بلوائیوں کی اجتماعی زیادتی کی شکار بلقیس بانو نے ان سفاک مجرموں کی رہائی کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق بلقیس بانو نے مودی سرکار کی جانب سے اُن 11 مجرموں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ ان سفاک مجرموں نے انھیں گجرات کے علاقے احمد آباد میں مسلم کُش فسادات کے دوران نہ صرف اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ ان کی 3 سالہ بیٹی سمیت اہل خانہ کو بیدردی سے قتل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ عمر قید کی سزا کاٹنے والے ان سزا یافتہ 11 مجرموں کو 15 سال قید مکمل ہونے پر رواں برس 15 اگست کو 1992 میں متعارف کرائے گئے معافی کی پالیسی کے تحت ان مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جس وقت بلقیس بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پورے گجرات میں مسلمانوں کی خون کی ہولی کھیلی گئی اُس وقت ریاست کے وزیراعلیٰ نریندر مودی ہی تھے اور آج جب ان سفاک مجرموں کو رہائی دی گئی تو مودی وزیراعظم ہیں۔

یہ خبر پڑھیں : اجتماعی زیادتی کرنے والے جنونی ہندوؤں کی رہائی دل چیر دینے والا دکھ ہے،متاثرہ مسلم خاتون 

بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور ان کے اہل خانہ کو بیدردی سے قتل کرنے والے مجرموں کو ملک کے قومی دن کی خوشی میں 15 اگست کو ایک فرسودہ پالیسی کے تحت رہا تو کردیا گیا لیکن اس سے ملک بھر میں بالخصوص مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

تاہم گجرات حکومت نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور انوکھی منطق پیش کی کہ ان مجرموں کو جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سزا میں تخفیف کرکے رہا کیا گیا جس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا بھی ایک فیصلہ موجود ہے۔

دوسری جانب بلقیس بانو کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گجرات حکومت نے معافی کی پالیسی 1992 کو استعمال کیا اور 2014 کی پالیسی کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کردیا جو عصمت دری اور قتل کے مجرموں کی رہائی پر پابندی لگا دیتی ہے۔

وکیل کے مطابق بلقیس بانو نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ گجرات حکومت نے نہیں بلکہ مہاراشٹرا کی حکومت کو کرنا چاہیے تھا جہاں اُن پر مقدمہ چل رہا تھا۔

واضح رہے کہ جب بلقیس بانو کو دس سال قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا تو ان کی عمر صرف 21 سال تھیں جب کہ گجرات بھر میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا اور محلے کے محلے جلا دیئے گئے تھے۔ یہ فسادات گودھرا ٹرین میں آتشزدگی میں 59 ہندو یاتریوں ہلاک ہوگئے تھے اور جنونیوں نے اس کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا تھا۔

 

 

The post گجرات فسادات؛متاثرہ مسلم خاتون نے زیادتی کے مجرموں کی رہائی چیلنج کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/cz1SEpG

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...