Skip to main content

بھارتی فضائیہ کا ابھینندن کے مگ-21 اسکواڈرن کو بند کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی: بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے کئی MiG-21 لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہوگئے جس پر انڈین فورس نے ان طیاروں پر مشتمل اسکواڈرن کو بند کردیا جس کے ونگ کمانڈر ابھینندن تھے۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئرفورس نے سری نگر کے مگ-21 اسکواڈرن کو 30 سمتبر تک ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکواڈرن کا نام Sword Arms تھا اور اس کے ونگ کمانڈر ابھینندن تھے۔

بھارتی فضائیہ نے تو یہ تاثر دیا ہے کہ اسکواڈرن کو بند کرنے کا فیصلہ مگ-21 طیاروں کا پرانا اور خستہ ہوجانا ہے تاہم دیگر تین مگ-21 اسکواڈرن کو برقرار رکھنا اور صرف ابھینندن کے اسکواڈرن کو بند کرنے کا مقصد ان کی بری کارکردگی ہی ہوسکتی ہے۔

بھارتی فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسکواڈرن کو ریٹائر پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا تاہم مگ-21 کے دیگر تین اسکواڈرن بدستور کام کرتے رہیں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈین ایئرفورس نے یہ فیصلہ مگ-21 ایئرفورس کے نہایت پرانے ہوجانے کے باعث آئے دن دوران پرواز زمین پر گر کر تباہ ہوجانے کے باعث کیا ہے۔

بھارتی فضائیہ کو پہلا مگ-21 طیارہ 1963 میں ملا تھا اور اب تک 874 طیارے مختلف اسکواڈرن کا حصہ بن چکے ہیں تاہم اب تک ان میں سے 400 طیارے زمین بوس ہوچکے ہیں اور 200 پائلٹس ہلاک ہوئے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر طیارے جنگ کے بجائے تربیتی پرواز کے دوران گرے جس کی وجہ ان طیاروں کا عمر رسیدہ ہوجانا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی فضائیہ نے سری نگر کے جس مگ 21 سکواڈرن ‘سورڈ آرمز’ کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے 2019 میں ونگ کمانڈر ابھینندن تھے جن کے طیارے کو پاک فضائیہ نے اپنی سرحد کے اندر مار گرایا تھا۔

اس واقعے میں ابھینندن نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی تھی تاہم مقامی رہائشیوں کے ہاتھ لگ گئے تھے جنھوں نے ابھینندن کو پاک آرمی کے حوالے کیا تھا اور پاکستان نے اعلیٰ ظرفی و پیشہ ورانہ دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابھینندن کو واپس بھارت بھیج دیا تھا۔

The post بھارتی فضائیہ کا ابھینندن کے مگ-21 اسکواڈرن کو بند کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/QS12fiZ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...