Skip to main content

دنیش گناوردینا نے سری لنکا کے نئے وزیراعظم کا حلف اُٹھالیا

کولمبو: بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی دنیش گناوردینا نے سری لنکا کے 15 ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف اُٹھالیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بدترین مالی بحران کے شکار سری لنکا میں رانیل وکرما سنگھے کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کی صورت میں خالی ہونے والے وزیراعظم کے عہدے پر قائد ایوان اور سابق وزیر دنیش گناوردینا نے حلف اٹھا لیا۔

نومنتخب صدر رانیل وکرما سنھگے نے 73 سالہ وزیراعظم دنیش گناوردینا سے وزیر اعظم دفتر میں عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یہ خبر پڑھیں : سری لنکن صدر مالدیپ فرار؛ ملک میں ایمرجنسی اور کرفیو نافذ

نئے وزیراعظم دنیش گناوردینا کی تقرری صدر رانیل وکرما سنگھے نے کی تھی، دونوں اسکول کے دنوں کے دوست بھی ہیں۔

خیال رہے کہ دنیش گناوردینا سری لنکا سے فرار ہوکر مستعفی ہونے والے سابق  وزیراعظم مہیندا راجاپاکسے کے قریبی ساتھی اور ان کے سیاسی خاندان کے حلیف ہیں۔

دنیش گناوردینا ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جن کے والد ڈان فلپ روپاسنگھے گناوردینا نے بھارت میں نوآبادیاتی نظام اور سامراج کے خلاف طویل جنگ کی تھی اور جواہر لعل نہرو، جے پرکاش نارائن اور کرشنا مینن کی طرح معروف رہنما بن گئے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : صدارتی محل پر دھاوا؛ سری لنکا کے نئے وزیراعظم بھی مستعفی ہونے کو تیار 

دنیش گناوردینا نے اپنے والد کی طرح بائیں بازو کی سیاست کی اور 1977 سے مسلسل پارلیمنٹ کا حصہ بنتے رہے اور اس دوران خارجہ امور، تعلیم، پانی اور  نکاسیٔ آب کے وزیر رہے۔

واضح رہے کہ شدید عوامی احتجاج اور دباؤ کے باعث صدر، وزیراعظم اور اس خاندان کے دیگر وزرا کو مستعفی ہوکر ملک سے فرار ہونا پڑا تھا جس کے بعد نئے صدر اور وزیراعظم نے حکومت سنبھالی ہے۔

The post دنیش گناوردینا نے سری لنکا کے نئے وزیراعظم کا حلف اُٹھالیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/JNDaS6o

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...