Skip to main content

لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول امیرِ طالبان کے حکم پر بند کیے گئے

کابل: افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کے کھلنے کے پہلے ہی روز بندش پر جہاں سب نے حیرت کا اظہار کیا وہیں اس اہم مسئلے پر طالبان قیادت کے دو واضح گروپوں میں تقسیم ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے سینیئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز کھلنے پر امیر طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے خود مداخلت کی اور اسکولز بند کرائے۔

سینیئر عہدیدار نے مزید انکشاف کیا کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھلتے ہی قندھار میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوند زادہ اور کچھ دیگر سینئر شخصیات چیف جسٹس عبدالحکیم شرعی، مذہبی امور کے وزیر نور محمد ثاقب اور نائب محمد خالد حنفی نے مخالفت کی۔

طالبان عہدیدار نے اے ایف پی کو مزید بتایا کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے دو گروپ ابھر کر سامنے آئے ہیں ایک قدامت پسند اور دوسرا شہری گروپ اور اس معاملے پر قدامت پسندوں نے یہ راؤنڈ جیت لیا۔

یہ خبر پڑھیں : طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز پھر بند کر دیئے

لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کے کھلنے کے چند گھنٹوں بعد ہی بندش پر یہ افواہیں بھی زیر گردش تھیں کہ طالبان حکومت کے وزیراعظم ملا حسن اخوندزادہ کو عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے تاہم ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تردید کردی تھی۔

قبل ازیں افغان امور کے ماہرین نے بھی دعویٰ کیا تھا لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے طالبان قیادت دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ طاقت کی اس کشمکش میں نقصان سراسر عوام کا ہو رہا ہے۔

عالمی طاقتوں نے بھی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز کی بندش کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی قوتوں نے طالبان قیادت پر واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے لازمی ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں پر واپسی اور کابینہ میں تمام قومیتوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔

The post لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول امیرِ طالبان کے حکم پر بند کیے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/MpwXtbq

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...