Skip to main content

بھارت میں متعصب ڈاکٹر نے مسلم خاتون مریضہ کا علاج کرنے سے انکار کردیا

 کولکتہ: بھارت میں مسلمانوں سے مذہبی منافرت کی انتہاء ہوگئی، مغربی بنگال میں متصب ڈاکٹر نے مسلم خاتون کا علاج کرنے سے انکار کردیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال میں متعصب ڈاکٹر نے علاج کے لیے آئی مسلم حاملہ خاتون کا علاج کرنے سے انکار کردیا جبکہ اسپتال کے عملے نے مریضہ سے ہاتھا پائی بھی کی۔

واقعہ مغربی بنگال کے ندیا ضلع کلیانی کے جے ایم این اسپتال میں پیش آیا جب ایک حاملہ خاتون اور ان کے رشتہ داروں کو صرف اس لئے مارا پیٹا گیا کیونکہ انہیں بنگلہ زبان نہیں آتی ہے اور اردو زبان میں بات چیت کررہے تھے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ کانکی نارہ کے رہنے والے لوگ فریدہ (فرضی نام) نام کی ایک مریضہ کو چیک اپ کے لئے اسپتال لائے تھے۔ چیک اپ کے دودان ڈاکٹر نے مریضہ سے چند سوال کیے۔ جس کا مریضہ نے ہندی میں جواب دیا۔ اسی بات کو لے کر ڈاکٹر مریضہ پر برس پڑی اور کہا کہ جب بنگلہ زبان نہیں آتی ہے تو یہاں نہیں بہار جا کر علاج کروائیں۔

ڈاکٹر کی جانب سے اس طنز پر اسپتال میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا، داکٹرز، نرسز سمیت اسپتال کے دیگر عملے نے مریضہ اور اس کی خاتون رشتہ داروں کی پٹائی کردی، زبان کے نام پر ڈاکٹروں کی یہ غنڈہ گردی گھنٹوں تک چلتی رہی۔

پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی جبکہ مریضہ اور اس کے رشتہ داروں کو بغیر علاج اسپتال سے باہر نکال دیا گیا۔

دوسری جانب اسپتال کے ایک عہدیدار مار پیٹ کرنے والے ڈاکٹر اور دیگر ملازمین سے دو قدم آگے نکلتے ہوئے مریضہ اور اس کے رشتہ داروں کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی شکایت درج کروا دی ہے جس کے بعد سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا جرمانہ وصول کیا جائے گا۔

The post بھارت میں متعصب ڈاکٹر نے مسلم خاتون مریضہ کا علاج کرنے سے انکار کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/qXaP3dA

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...