Skip to main content

بھارت میں 80 فیصد خواتین شوہروں کے تشدد کو درست قرار دیتی ہیں، سروے

نئی دہلی: بھارت کی تین بڑی ریاستوں کی 80 فیصد خواتین نے شوہروں کے اپنی بیویوں پر ہاتھ اُٹھانے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دیگر ریاستوں میں بھی 50 فیصد سے زائد خواتین شوہروں کے تشدد کے حق میں ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بالترتیب 84، 84 اور 77 فیصد خواتین نے شوہروں کے بیویوں پر تشدد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوہروں کو بیویوں کی پٹائی کرنے کا حق ہے۔

حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NHFS) میں ملک بھر کی ریاستوں میں خواتین سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ ’’ آپ کے خیال میں شوہر کا اپنی بیوی پر تشدد کرنا درست ہے؟ جواب ہاں یا نہ میں دینا تھا۔

سروے میں سوال کے ساتھ ممکنہ حالات جیسے شوہر کو بیوی کی وفا پر شک ہو، سسرال والوں کی بے عزتی کرتی ہو، شوہر کے ساتھ بحث کرتی ہو، جنسی تعلق کرنے سے انکار کرتی ہو، بتائے بغیر باہر نکل جاتی ہو، گھر یا بچوں کو نظر انداز کرتی ہو اور اچھا کھانا نہیں بناتی ہو رکھے گئے تھے۔

سروے کے مطابق 18 میں سے 14 ریاستوں کی 50 فیصد سے زائد خواتین مردوں کو مخصوص حالات میں اپنی بیویوں کو مارنے کو درست قرار دیتی ہیں جب کہ بہت ہی کم خواتین نے اس عمل کو غیر معقول قرار دیا۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق تلنگانہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں نتائج بہت دلچسپ ہیں جہاں تقریباً 80 فیصد خواتین نے مردوں کے بیویوں پر تشدد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ منی پور میں 66 فیصد، کیرالہ میں 52، جموں و کشمیر میں 49، مہاراشٹر میں 44 اور مغربی بنگال میں 42 فیصد خواتین نے مردوں کے تشدد کو درست کہا۔

نیشنل فیملی ہیلتھ کے افسران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وجہ شوہروں کو بیویوں پر تشدد کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ یہ خلاف قانون بھی ہے اور ہمارے سماج کی روایات کے برعکس بھی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گھروں میں خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں اور سالانہ کئی سو خواتین شوہروں اور سسرالیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔

The post بھارت میں 80 فیصد خواتین شوہروں کے تشدد کو درست قرار دیتی ہیں، سروے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3xvL4yV

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...