Skip to main content

ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ

 واشنگٹن: ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور اقوام متحدہ کی تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے افغانستان کے منجمد فنڈز میں سے 50 کروڑ ڈالر جاری کرنے پر کام کر رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ بینک بورڈ کے ارکان آج افغانستان کی تعمیر نو کے منجمد ٹرسٹ فنڈ سے 50 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم اجلاس کر رہے ہیں۔

ورلڈ بینک میں افغانستان کے ترقیاتی پروجیکٹس کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم موجود ہے جسے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے منجمد کردیا گیا تھا تاہم اب اس میں 50 کروڑ ڈالر کی رقم این جی اوز اور عالمی اداروں کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ خبر پڑھیں : ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوجائیں تو کسی اور امداد کی ضرورت نہیں رہے گی، طالبان 

خیال رہے کہ امریکی حکام اور اقوام متحدہ کی حالیہ ملاقاتوں میں افغانستان کے فنڈز میں سے کچھ رقم جاری کرنے کی تجویز رکھی گئی تھی جس کے بعد عالمی بینک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر منجمد امدادی فنڈ سے 500 ملین ڈالر تک کی رقم کی فراہمی پر کام کا آغاز کیا ہے۔

رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس منصوبے کے واقف کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان سے سیکڑوں امدادی کارکن انخلا کرچکے ہیں اور ایسی صورت حال میں امدادی رقوم کی منصفانہ تقسیم بہت بڑا چیلینج ہوگی۔

افغان ماہرین کی رائے بھی تجربہ کار امدادی کارکنوں کی کمی کے باعث انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی کی گئی امدادی رقوم کا درست استعمال اور ترقیاتی پروجیکٹس کی تکمیل ایک مشکل ہدف ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ورلڈ بینک کا افغانستان کی امداد بحال کرنے سے انکار 

امریکی حکام بھی کئی بار امدادی کارکنوں کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے منجمد فنڈز کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے چیف ڈیوڈ مالپاس نے چند روز قبل ہی افغان فنڈز کی بحالی کے امکان کو رد کرتے ہوئے اس کی وجہ غیر یقینی صورت حال، انتہائی خراب معیشت اور ادائیگیوں کا مؤثر نظام نہ ہونے کو قرار دیا تھا۔

The post ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3G0Jus8

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...