Skip to main content

فرانس نے خلا میں اپنی فوج کیلیے جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ بھیج دیا

پیرس: فرانس نے کامیابی کے ساتھ ایک جدید ترین سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجا ہے جو دنیا بھر میں نہ صرف فرانس کی تمام مسلح افواج کو ایک دوسرے سے تیز اور محفوظ طریقے سے رابطہ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ زمین اور خلا میں فوجی مداخلت سے آگاہ کریں گے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے فضائی اور خلائی فورس کے ترجمان کرنل اسٹیفن اسپیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ اریان 5 راکٹ کے ذریعے مدار میں کامیابی سے اسٹیٹ آف دی آرٹ ملٹری کمیونیکشن سیٹلائٹ ’’سائراکوز 4 اے‘‘ بھیجا ہے۔

اس سیٹلائٹ کو ہفتے کے آخر میں فرانسیسی گیانا کے کورو سے روانہ ہوا تھا اور ٹیک آف کے بعد 38 منٹ اور 41 سیکنڈ میں مشن مکمل کیا۔ یہ سیٹلائٹ اپنے قریبی ماحول کا جائزہ لے سکتا ہے اور کی بھی حملے سے بچنے کے لیے خود کو بچانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کے جدید آلات جیسے اینٹی جامنگ اینٹینا اور بورڈ پر ڈیجیٹل ٹرانسپیرنٹ پروسیسر کی بدولت انتہائی کار آمد ہیں اور مواصلاتی نظام کو جام کردینے والے کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے خلاف اعلیٰ مزاحمت کی ضمانت دیتے ہیں۔

فرانس کے فضائی اور خلائی فورس کے ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ سیٹلائٹ زمین پر موجود تینوں افواج کے درمیان رابطے کو تیز اور محفوظ بنائے گا اور فرانس کی خلا میں موجود ملٹری فورس کو بھی دیگر ممالک کی خلائی فوج کی مداخلت اور جارحیت سے بھی آگاہ کرے گا۔

جنیوا سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے ماہر مارک فناؤڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیٹلائٹ کو ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ’’الیکٹرو میگنیٹک پلسس‘‘ سے بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔

عالمی قوتوں کی جانب سے خلائی فورسز کی تشکیل سے ایک نئی فوجی سرحد بن گئی ہے جس کے بعد سے حریف ممالک خلائی ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ امریکا اور فرانس نے روس پر خلائی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ فرانس نے جولائی 2019 میں ایک خلائی فورس کمانڈ تشکیل دی تھی اور رواں برس مارچ میں اپنے مصنوعی سیاروں کے دفاع کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے خلا میں اپنی پہلی فوجی مشقیں شروع کی تھیں۔

 

The post فرانس نے خلا میں اپنی فوج کیلیے جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ بھیج دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3EajysT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...