Skip to main content

عالمی قوتیں موسمیاتی تبدیلی کیلیے ہمارے منظور شدہ فنڈز بحال کریں، طالبان

دوحہ: ترجمان طالبان سہیل شاہین نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے افغانستان کے لیے پہلے سے منظور شدہ فنڈز فوری پر فراہم کیا جائے۔

عالمی خبر رساں ادرے کے مطابق گلاسکو میں موسمیاتی تبدیلی پر عالمی قوتیں سر جوڑ کر بیٹھی ہیں تاہم طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے پر افغانستان کی نمائندگی نہیں ہے۔

طالبان حکومت کے نامزد کردہ اقوام متحدہ کے مستقل مندوب سہیل شاہین نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ افغانستان کو خراب موسم کا سامنا ہے جس کو درست کرنے کے لیے بڑے کام کرنا ہوں گے۔

سہیل شاہین نے مزید لکھا کہ افغانستان میں موسمیاتی تبدیلی کے منصوبے گرین کلائمنٹ فنڈ، یو این ڈی پی اور افغان ایڈ کی مالی اعانت سے مکمل ہونے ہیں۔ تعطل کے شکار ان منصوبوں پر کام دوبارہ شروع کیا جانا چاہیئے۔

ترجمان طالبان نے یہ بھی لکھا کہ ان منصوبوں کی بحالی سے ایک طرف تو آب و ہوا کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی تو دوسری طرف روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ترجمان سہیل شاہین نے یقین دہانی کرائی کہ امارت اسلامیہ افغانستان این جی اوز اور خیراتی اداروں کو کام کرنے کے لیے تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سہیل شاہین نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اقوام متحدہ نے اب تک نمائندگی نہیں دی ہے جب کہ قانون کے تحت جس ملک میں جس کی حکومت ہوتی اس حکومت کے نامزد کردہ امیدوار کو قبول کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی پر 26 ویں عالمی کانفرنس گلاسکو میں ہو رہی ہے جس میں رکن ممالک کے نمائندے شریک ہیں تاہم طالبان حکومت کی نمائندگی نہیں ہے۔

The post عالمی قوتیں موسمیاتی تبدیلی کیلیے ہمارے منظور شدہ فنڈز بحال کریں، طالبان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3vZGzMu

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...