Skip to main content

طوفان’’گلاب‘‘ کی شدت میں اضافہ، محکمہ موسمیات نے کراچی کیلیے نیا الرٹ جاری کردیا

کراچی  : بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دباؤ نے ڈپریشن کی شکل اختیار کرلی ہے، گہرے سمندرمیں بننے والی غیرمعمولی سرگرمی کا فاصلہ کراچی سے 240 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، جو آج سائیکلونک اسٹارم یا سائیکلون بن سکتا ہے.

محکمہ موسمیات  کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ سے طوفان کی شکل اختیار کرنے والا طوفان گلاب جوکہ شدت اختیار کرنے کے بعد بھارتی ساحلی علاقے اڑیسہ سے ٹکرانے کے بعد واپس ہوا کےکم دباؤ کی شکل اختیار کرگیا تھا، یہ سلسلہ بحیرہ عرب منتقل ہونے کے بعد بتدریج اور مرحلہ وار شدت اختیارکرتا جارہا یے۔

اگر یہ ڈپریشن طوفان کی شکل اختیار کرجاتا ہے، تو اسے شاہین کا نام دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف گرج چمک کے ساتھ کراچی اور دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشیں ہوسکتی ہیں بلکہ یہ مون سون سلسلہ تندوتیز ہواؤں اور سمندرمیں اونچی لہروں کی وجہ سے طغیانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے کچے مکانوں، بل بورڈز اور درخت گرنے سمیت ساحلی آبادیوں کے زیر آب آنے کے خدشات موجود ہیں۔ جب کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلاف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے : کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، بجلی کے کھمبے اور درخت گرگئے

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق دوروز قبل بحیرہ عرب میں موجود ہوا کا کم دباؤ دوروز کے دوران ڈپریشن اور ڈیپ ڈپریشن کی شکل اختیار کرچکا ہے،اور ایک درجہ مزید شدت کے بعد آج سائیکلونک اسٹروم میں ڈھل سکتا ہے، محکمہ موسمیات کی جانب سے اب تک اس حوالے سے 3 الرٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔

تازہ ترین الرٹ کے مطابق سمندرمیں غیرمعمولی سرگرمی کا فاصلہ جمعرات کی شام تک کراچی سے 240، ٹھٹھہ سے 200 کلومیٹر اور اورماڑہ سے 410 کلومیٹر کے فاصلے پرتھا۔

چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق  گذشتہ 14 برسوں میں یہ صورت حال دوسری مرتبہ پیدا ہوئی ہے کہ ایک کم دباؤ شدت کے بعد طوفان اور بعدازاں پھر کم دباؤ کے بعد ایک اور طوفان کی شکل اختیارکرگیاہو، ایسا بہت کم ہوتا ہے، 2007 میں ایسا ہی ایک غیرمعمولی طوفان بلوچستان کے ساحلی مقامات پسنی،اورماڑہ میں قرب وجوار کی آبادیوں کے لیے نقصان کا باعث بن چکا ہے، جس کے دوران نہ صرف 10 کے قریب لانچیں ڈوب گئی تھیں بلکہ اس طوفان کی وجہ سے درجنوں مکانوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

محکمہ موسمیات نے اپنے تیسرے ٹروپیکل سائیکلون الرٹ میں ماہی گیروں کو 2 اکتوبرتک سمندر میں مچھلی کے شکار سے گریز کامشورہ دیا ہے، سمندر میں موجود سسٹم کی وجہ سے شہر کے مختلف مقامات پروقفے وقفےسے درمیانی اور ہلکی بارشیں ہوئیں، جب کہ دن بھر معمول سے تیز گردآلود ہوائیں چلیں، جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔

The post طوفان’’گلاب‘‘ کی شدت میں اضافہ، محکمہ موسمیات نے کراچی کیلیے نیا الرٹ جاری کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2WqgPvd

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...