Skip to main content

غذا اور ورزش پر توجہ دے کر ہم امراض قلب سے محفوظ رہ سکتے ہیں، ماہرین طب

 کراچی:  ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں امراض قلب سے ہونے والی اموات کی شرح بیس فیصد ہے یعنی ملک میں انتقال کر جانے والا ہر پانچواں شخص دل کی  بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث موت کا شکار ہورہا ہے۔

علاج سے بہتر بچاؤ ہے امراض قلب سے بچاؤ کے لیے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے فارماسیوٹیکل کمپنی گیٹز فارما کے اشتراک اور ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے زیراہتمام عالمی یوم امراض قلب کے سلسلے میں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے لیکچر ہال میں آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار سے پرو وائس چانسلر زپروفیسر زرناز واحد، پروفیسر نصرت شاہ،ڈاکٹر اختر علی بلوچ،ڈاکٹر زاہد اعظم، ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر طارق فرمان و دیگر نے بھی خطاب کیا، قبل ازیں ڈاکٹر عشرت العباد او ٹی کمپلیکس سے مین او پی ڈی تک آگہی واک منعقد کی گئی، اس موقع پر ڈائریکٹر او پی ڈی ڈاکٹر رستم زمان آئی بی ایس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر شعیب احمد، فیکلٹی کے ارکان و طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شریک تھی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ غذا اور ورزش پر توجہ دے کر ہم امراض قلب سے محفوظ رہ سکتے ہیں، سرکاری سطح پر بھی علاج سے زیادہ بچاؤ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس کے لیے مہم چلائی جائے اور امراض قلب سے محفوظ فضا اور ماحول بنایا جائے، علاج مہنگا اور بچاؤ سستا ہے۔

پروفیسر زرناز واحد نے کہا کہ زندگی بھر دل ہمارے ایک بہت مضبوط عضو کے طور پر اہم کردار ادا کرتا ہے ایک صحت مند زندگی کو  کامیاب زندگی دل ہی بناتا ہے، اس لیے دل کی قدر کیجیے اور اس کا خیال چہل قدمی اور ورزش سے رکھا جاسکتا ہے۔

The post غذا اور ورزش پر توجہ دے کر ہم امراض قلب سے محفوظ رہ سکتے ہیں، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XUreQg

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...