Skip to main content

پاکستانی ”عسکریت پسند“ کی ہلاکت اور گرفتاری کی بھارتی خبروں کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان

 اسلام آباد: پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مبینہ پاکستانی ”عسکریت پسند“ کی ہلاکت اور دوسرے کو گرفتار کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہیں۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جانب سے مبینہ پاکستانی ”عسکریت پسند“ کی ہلاکت اور گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ایسی خبروں کو مسترد کیا ہے. اور کہا ہے کہ بھارتی الزامات پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں اپنی گھناونی سرگرمیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ ہم نے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں ڈوزیئر کے ذریعے دنیا کے ساتھ ناقابل تردید شواہد شیئر کیے ہیں، اس وقت بھی ہزاروں نوجوان کشمیری مختلف الزامات کے تحت بھارتی جیلوں میں قید ہیں بھارت وقتا فوقتا ان نوجوانوں میں سے کچھ کو دنیا کے سامنے مبینہ ‘عسکریت پسند’ کر پیش کرتا رہتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ جب بھی بھارت عالمی برادری کا دباؤ محسوس کرتا ہے وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنے مظالم اور پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن، جعلی مقابلوں اور جعلی اسلحہ کی بازیابی کی کارروائیوں شروع کر دیتا ہے، ان کاروائیوں میں بھارتی قابض افواج کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کے ان مذموم ہھتکنڈوں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ ڈوزیئر میں تفصیل کے ساتھ بے نقاب کیا گیا ہے، پاکستان کنٹرول لائن پر ماحول کو خراب کرنے کی حالیہ بھارتی کوششوں پر بھی شدید تشویش میں مبتلا ہے، ایل او سی پر جنگ بندی کے حوالے سے فروری 2021 کی ڈی جی ایم او کی ملاقات کے مطابق پاکستان بھارتی اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

The post پاکستانی ”عسکریت پسند“ کی ہلاکت اور گرفتاری کی بھارتی خبروں کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39JAEkp

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...