Skip to main content

ایکواڈور میں 100 سے زائد قیدیوں کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ

کیوٹو: جنوبی امریکا کے ملک ایکوا ڈور میں درجنوں قیدیوں کی ہلاکت کے بعد ملک بھر کی جیلوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق گایا کوئیل کی لٹورل جیل میں ہونے والے ہلاکت خیز بلوے کےنتیجے میں اب تک کم از کم 116 قیدی ہلاک اور 80 زخمی ہوچکےہیں۔ ایکوا ڈور کے صدر گیئر ملاسو نے جیل میں دو گروہوں کے درمیان ہونے والے ملکی تاریخ کے بدترین بلوے کے بعد ملک بھر کی جیلوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ لڑائی کی شروعات جیل میں موجود دو گروپوں’ لوس لوبوس‘ اور لوس کونیروس‘ کے درمیان ہونے والے تنارع کے بعد ہوئی۔ اوریہ ملکی تاریخ میں کسی جیل میں ہونے والی بدترین خونی لڑائی ہے جس میں کئی قیدیوں کے سر تن سےجدا کردیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کم از کم 5 لاشیں ایسی ہیں جن پر بدترین تشدد کرنے کے بعد ان کے سر کاٹ دیے گئے ہیں۔

صدر کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے بعد فوج اور پولیس نے جیل کا نظام سنبھال لیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر ملاسو نے اس خون خرابے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ حکام دوبارہ اس جیل کا کنٹرول حاصل کرسکیں گے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ گروپوں میں طاقت کے حصول کے لیے قیدیوں کا دہشت گرد بن جان قابل تاسف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جیل کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے تاکہ تشدد کی یہ لہر دوسری جیلوں تک نہ پہنچ سکے۔

ایکواڈور میں جیل میں موجود گروپوں کے درمیان جاری پُر تشدد لڑائی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جیل کی  راہداریوں میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور چاقو، آتشیں اسلحے اور بموں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب کہ جیل کے مردہ خانے کے باہر قیدیوں کے عزیز و اقارب غم سے نڈھال دکھائی دے رہے ہیں۔

واضح رہےکہ رواں سال فروری میں بیک وقت ملک کی تین جیلوں میں ہونے والے بلوے کے نتیجے میں 79 قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔

The post ایکواڈور میں 100 سے زائد قیدیوں کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/39Qkgi3

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...