Skip to main content

نیو ہیمپشائر میں پاکستان کے جشنِ آزادی کی تقریب

نیو ہیمپشائر: امریکی شہر مانچسٹر نیو ہیمپشائر میں پاکستان کی جشن آزادی کے سلسلہ میں پرچم کشائی کی وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں کمیونٹی ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان کی سالگرہ کا خصوصی کیک بھی کاٹا گیا۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح امریکا میں مقیم اووسیز پاکستانیوں نے بھی یوم پاکستان کو ملی جوش و جذبے سے منایا۔ امریکی نژاد پاکستانی سماجی و کاروباری شخصیات سعید احمد، محمد مبین اور اعجاز احمد کی جانب سے منعقدہ جشن آزادی کی تقریب میں مرد و خواتین اور بچوں سمیت کمیونٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز عبداللہ اعجاز نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ عبدالقدیر سعید نے حاضرین کےلیے تلاوت کا انگریزی ترجمہ کیا۔ نازیہ افتخار نے کلام اقبال پیش کر کے شرکا کے دل موہ لیے۔ اس موقع پر فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی جبکہ خواتین سمیت بچے بھی قومی پرچم تھامے نظر آئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے قیام پاکستان کے ساتھ ساتھ حصول پاکستان کےلیے کی جانے والی جدوجہد کے بارے میں شرکا کو آگہی دی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک رہنے کے باوجود ہمارے دل اہل وطن کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہزاروں میل دور رہ کر بھی ہمارے قلب و ذہن میں وطن کی محبت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

اس پرمسرت موقع پر ایسے پروگرام منعقد کرکے ہم اپنی نوجوان نسل کو آزادی کی نعمت کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں اور تحریک پاکستان سے روشناس بھی کرواتے ہیں۔

تقریب میں پاکستانی ملی نغموں نے چار چاند لگا دئیے جبکہ اس موقع پر جشن آزادی مبارک کا خصوصی کیک بھی کاٹا گیا تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی اور عالم اسلام کے مسلمانوں کےلیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

The post نیو ہیمپشائر میں پاکستان کے جشنِ آزادی کی تقریب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3ys0Wl1

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

مسافروں کو ہتھکڑی لگا کر قید میں رکھنے والا عجیب ترین ہوٹل

لٹویا:  یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک لٹویا کے ساحلی علاقے میں واقع ہوٹل میں جدید سہولیات کے بجائے مسافروں کو ’جیل‘ کا سخت اور ناپسندیدہ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ہتھ کڑی، تاریک بیرکس، قیدیوں جیسا لباس، جامہ تلاشی اور تفتیش یہ سب کسی جیل کا منظر نامہ نہیں بلکہ ایک لگژری ہوٹل  کا احوال ہے جہاں ٹھہرنے کے خواہش مند افراد کو کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کمزور دل کے حامل ہیں تو کسی اور ہوٹل میں وقت بسر کریں۔ انہی خاصیتوں کے باعث اس ہوٹل کا نام ’لی پاجا پرزن ہوٹل  (Liepaja Prison Hotel) ‘ رکھا گیا ہے جسے 1900ء میں روس کے بحری فوج نے کسی جرم میں پکڑے گئے فوجیوں کو سزا دینے کے لیے تعمیر کیا تھا۔ پہلے پہل اس کا نام کوارٹر کارڈز رکھا گیا تھا اور یہاں اُن فوجیوں کو پابند سلاسل رکھا جاتا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جاتے تھے۔ بعد ازاں اس عمارت کو مخالف فوج کے اہل کاروں، غیر ملکی جاسوسوں اور خطرناک ملزموں سے تفتیش کے لیے استعمال کیا جانے لگا جہاں قیدیوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا جس کے باعث جلد ہی یہ عمارت ایذا رسانی کے مرکز کے طور پر مشہور ہو گئی تاہم 1997ء میں اسے ’قید...