Skip to main content

طالبان کے ہاتھ 85 ارب ڈالر کا امریکی جنگی ساز و سامان لگ گیا، رکن کانگریس

 واشنگٹن: ریپبلکن کے رکن پارلیمنٹ جم بینکس نے الزام عائد کیا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی غفلت کے باعث 85 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوج کا سازوسامان طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس جم بینکس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے بے ہنگم اور بے ترتیب انخلا کی وجہ سے طالبان کو 85 ​​ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوجی آلات تک رسائی حاصل ہوگئی۔

American Helicopter

جم بینکس جو 20 سالہ افغان جنگ کو قریب دیکھ چکے ہیں اور اہم معلومات رکھتے ہیں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اپنے پیچھے چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز و سامان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن میں 75 ہزار گاڑیاں، 200 ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز جب کہ 6 لاکھ چھوٹے ہتھیار شامل ہیں۔

taliban in american planes 1

رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ افغان شدت پسند تنظیم کے پاس اب دنیا کے 85 فیصد ممالک سے زیادہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جب کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ طالبان کے پاس بائیو میٹرک ڈیوائسز بھی ہیں جن میں انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کے اسکین اور امریکا کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کی نجی معلومات رکھی گئی تھیں۔

taliban in american planes 3

ریپبلکن رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ صدر جوبائیڈن کی غلط پالیسی اور ان کی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ہوا ہے۔ افغان فوج نے مقابلہ کرنے کے بجائے پوسٹیں چھوڑ دیں یا ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

taliban in american planes 5

واضح رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں کے دوران امریکا نے افغان مسلح افواج کو بھاری مقدار میں ہتھیار اور جنگی آلات فراہم کیے تھے جو اب طالبان نے 15 اگست کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔

taliban in american planes 2

 

The post طالبان کے ہاتھ 85 ارب ڈالر کا امریکی جنگی ساز و سامان لگ گیا، رکن کانگریس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3h6PIN9

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...