Skip to main content

کراچی میں کورونا کے خوف سے مریض اسپتالوں سے فرار ہونے لگے

کراچی: کراچی میں بھی کورونا کے خوف سے مریض اسپتالوں اور بیرون ممالک سے آنیوالے کورونا کے مریض ہوٹلوں سے فرار ہونے لگے۔

5جولائی سے اب تک کورونا کے 23 مریض مختلف اسپتال اور ہوٹلز اور قرنطینہ سینٹر سے بتائے بغیر چلے گئے، اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ بیرون ممالک سے آنیوالے مشتبہ مسافروں اور اسپتالوں میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کیلیے سخت نگرانی کی جائے۔

محکمہ صحت کی جانب سے 15 جولائی کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ کے نام لکھے جانے والے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے کورونا کے مشتبہ مسافروں کو قرنطینہ میں مقررہ ایام مکمل کرانے کیلیے ہوٹلوں، اسپتالوں (قرنطنیہ سینٹر) میں کورونا میں مبتلا کے مریضوں کی نگہداشت کیلیے سختف حفاطتی اقدامات کیے جائیں۔

ائیرپورٹ کے قریب واقع ایک نجی ہوٹل اور کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی نگرانی کیلیے بھی سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے جائیں کیونکہ محکمہ صحت کو بیرون ممالک سے آنے والے اور اسپتالوں میں زیر علاج کورونا کے مریض اسپتال سے بھاگنے کے شواہد موصول ہوئے ہیں جس کے بعد صوبائی محکمہ صحت نے سندھ کی انتظامیہ کو مکتوب بیھجاہے۔

مکتوب کے مطابق کینیڈا سے ترکی ائیرلائن کے ذریعے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے والا مسافر زین کامران کو 6جولائی کو ائیرپورٹ کے قریب ہوٹل میں ٹھہرایا گیا، بعدازاں یہ مسافر 10 جولائی کو بغیر بتائے ہوٹل سے روانہ ہوگیا۔

اسی طرح 28 جولائی کی صبح عراق سے کراچی پہنچنے والی خاتون رضیہ الطاف اپنے بیٹے کے ساتھ کراچی پہنچی تھی جس کے بعد اس خاتون کو سندھ گورنمنٹ کورنگی نمبر5کے کورونا وارڈ میں داخل کیا گیا، بعدازاں یہ خاتوں بدھ کی صبح اسپتال سے اپنے بیٹے کے ہمراہ بغیر بتائے چلی گئی۔

ائیرپورٹ کا محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس خاتون کا پاسپورٹ نمبر BG1775281یہ ہے، مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 5جولائی سے اب تک 23 کورونا کے مریض ہوٹل اور قرنطینہ سینٹر سے بغیر بتائے جاچکے ہیں۔

 

The post کراچی میں کورونا کے خوف سے مریض اسپتالوں سے فرار ہونے لگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3BRjCxt

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...