Skip to main content

امریکی کورونا ویکسین کی مزید 30 لاکھ خوراکیں پاکستان کے حوالے

 اسلام آباد: امریکی حکومت نے جان بچانے والی انسداد کووڈ۔ ویکسین کی 30 لاکھ خوراکوں پر مشتمل کھیپ پاکستانی عوام میں تقسیم کرنے کے لیے حُکومت پاکستان کے حوالے کردی ہے۔ ٹیکوں کی یہ کھیپ کوویکس اور یونیسیف کے اشتراک سے پہنچائی گئی ہیں۔ 

امریکی سفارتخانہ کی ناظم الامور اینجیلا ایگلر کے مطابق موڈرنا ویکسین کی مزید 30 لاکھ خوراکیں پاکستان کے حکام کے حوالے کردی گئی ہیں، یہ عطیہ امریکا کی جانب سے کورونا وائرس وبا کے خاتمہ کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے مقصد کے تحت دنیا بھر میں 8 کروڑ ٹیکوں کی تقسیم کے سلسلہ کی کڑی ہے۔

 

اس خبرکوبھی پڑھیں: امریکی کوروناویکسین کی بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

امریکی سفارتخانہ کی ناظم الامور اینجیلا ایگلر نے کہا کہ ہم سب سے زیادہ ضرورتمند آبادیوں تک کووڈ ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے مشترکہ مقصد پر یقین رکھتے ہیں،ویکسین کی یہ 30 لاکھ خوراکیں اُن 25 لاکھ ٹیکوں کے علاوہ ہیں جو اس مہینے کے اوائل میں امریکا نے پاکستانی عوام کو دیئے تھے۔

اینجیلا ایگلر کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکےجو امریکا کی اپنی داخلی فراہمی سے حاصل کیئے گئے ہیں امریکی صدر بائیڈن اور امریکی مشن کے ان وعدوں کی پاسداری کے عکاس ہیں کہ ہم کووڈ وبا کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حکومت نے حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک کار کے تحت پانچ کروڑ ڈالر کووڈ کے سَدِباب کے لیے بطور امداد دیئے ہیں۔ وباء کے آغاز سے لیکر ہی امریکا نے بیماری کی روک تھام اور قابو پانے، مریضوں کی نگہداشت میں بہتری، لیبارٹری تشخیص میں وسعت، مرض کی نگرانی، تمام اضلاع میں متاثرین کی جانچ پڑتال اور صَفِ اوّل کے صحت کارکنوں کی مدد کی خاطر حکومت پاکستان کے ساتھ مِل جُل کر اقدامات اُٹھائے ہیں۔

The post امریکی کورونا ویکسین کی مزید 30 لاکھ خوراکیں پاکستان کے حوالے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3zM1EKX

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...