Skip to main content

مصر، اردن اورعراق کا سعودی عرب سے سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق

 بغداد: عراق، مصر اور عراق کے سربراہان کے اجلاس میں سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سہ فریقی عرب الائنس کا دوسرا اجلاس عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی میزبانی میں بغداد میں ہوا جس میں مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے شرکت کی۔ مصر، اردن اور عراق کے سر ملکی عرب الائنس کا پہلا اجلاس گزشتہ برس عمان میں ہوا تھا۔

اجلاس میں شرکت کے لیے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی گزشتہ روز بغداد پہنچے تھے۔ یہ کسی بھی مصری حکمراں کا 1990 میں صدام حسین کے کویت پر حملے کے بعد 30 برس میں عراق پہلا دورہ تھا تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان منقطع تعلقات آہستہ آہستہ بحال ہورہے ہیں جس کا آغاز گزشتہ برس عمان سے ہوا تھا۔

اجلاس میں تینوں سربراہان مملکت نے باہمی تعاون کے فروغ میں اضافے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن و سلامتی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عہد کیا جب کہ تینوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور جلد اس فریم ورک کے تحت تجارت کے نئے مرحلے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گا۔

حالیہ برسوں کے دوران اردن، عراق اور مصر کے مابین تعلقات بہتری کی جانب رواں دواں ہیں اور تینوں ممالک نے سیکیورٹی ،معیشت، توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جب کہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری کے فروغ اور ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

قبل ازیں عراق اور اردن کے درمیان بصرہ سے اردن کی بندرگاہ عقبہ تک پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی اتفاق کیا جا چکا ہے جس کے ذریعے عراق روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل اردن کو برآمد کرے گا۔

اسی طرح مصر نے بھی فروری میں عراق کے ساتھ تیل ، شاہراہوں ، مکانات ، تعمیرات اور تجارت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون و تعلقات کے فروغ کے لیے مفاہمت کی پندرہ یادداشتوں اور سمجھوتوں پر دست خط کیے تھے۔

واضح رہے کہ سہ ملکی عرب الائنس سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور صف بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت کے بعد اس عرب الائنس کے بھی خطے میں اثرات مرتب ہوں گے جس سے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کی حیثیت مضبوط اور ایران کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے تاہم قطر کو ابھی فیصلہ کرنا ہے وہ کس جانب کھڑا ہے۔

 

The post مصر، اردن اورعراق کا سعودی عرب سے سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3jmXNyP

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...