Skip to main content

صوبہ سندھ میں بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی نہ آ سکی

 کراچی:  بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلیے سندھ طویل عرصے سے جدوجہد میں مصروف ہے جہاں قانونی ڈھانچے کے باوجود بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے۔

مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ ان اداروں میں اساتذہ کا معمول ہے کہ وہ کمسن طلبہ کو انتہائی غیرانسانی اور ہتک آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو سزا دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسی ہی وڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ضلع عمرکوٹ میں ایک مدرسے کے عالم دین نے7سے 8سال کی عمر کے تین طالب علموں کو زدوکوب اور تشدد کا نشانہ بنایا، آپ لوگ ہمیشہ دیر سے کیوں آتے ہیں ؟، اگر آپ نے غلطی کو دوبارہ دہرایا تو میں آپ کا قتل کردوں گا، ’’وڈیو میں استاد کی حقارت آمیز گفتگو سنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایسے ہی واقعات کو دیکھتے ہوئے 4سال قبل  سندھ اسمبلی نے جسمانی سزا کا بل 2016 منظور کیا تھا  تاکہ بچوں کو ہر طرح کے تعلیمی اداروں اور دیکھ بھال کے مراکز میں تشدد سے بچایا جاسکے۔اس بل میں بچوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کی گئی، بل میں بچے کے انسانی وقار اور جسمانی سالمیت کا احترام کرنے کے حق کے تحفظ پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔

بچوں کے حقوق برائے قومی کمیشن (این سی آر سی) سندھ چیپٹر کے ممبر اقبال احمد ڈیٹھو کے مطابق قواعد تیار کیے گئے ہیں لیکن حتمی منظوری کے منتظر ہیں تاہم  قواعد کی ایک کاپی  جو ایکسپریس ٹریبیون نے حاصل کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ جس شخص نے بھی بچے پر تشدد کیا ہو ،اسے مقامی سطح پر تشکیل دی گئی چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں (تحقیقات کے بعد) اس معاملے کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے پاس مزید تفتیش اور کارروائی کیلیے بھیجیں گی۔

دوسری طرف صوبائی وزیر صحت کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل التوا کا شکار انسداد جسمانی تشدد سے متعلق سزا کا بل اس وقت حتمی شکل میں ہے جو بھی شکایات کو رجسٹرڈ کرتا ہے یا جب بھی میڈیا میں اس طرح کے واقعات کی خبریں آتی ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

انھوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ وزیر تعلیم سندھ اس معاملے سے متحرک ہیں اور انھوں نے پہلے ہی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ جسمانی یا دیگر قسم کی سزا کو اسکول کی سطح پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

The post صوبہ سندھ میں بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی نہ آ سکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gXsHwu

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...