Skip to main content

خانہ کعبہ اور مسجد النبوی میں آخری عشرے کی قیام اللیل کیلیے نئے احکامات

ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں قیام اللیل کے لیے نئے اجازت نامے صرف کورونا ویکسی نیشن کروانے والے نمازیوں کو جاری کیے جائیں گے۔

رمضان کے آخری عشرے میں خانہ کعبہ اور مسجد النبوی میں ہونے والی پُرنور قیام اللیل کا انتظار سب ہی کو ہے جس میں اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں خصوصی دعائیں اور مناجات کی جاتی ہیں اور امام کعبہ کی پر سوز حسن قرأت سے رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : محمد بن سلمان کا حرمین شریفین میں تراویح کی رکعتیں نصف کرنے کا حکم 

کورونا وبا کے باعث گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی سخت ایس او پیز اختیار کیئے گئے ہیں۔ وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ قیام اللیل میں شرکت کے لیے نمازیوں کو توکلنا ایپ کے ذریعے اجازت نامے جاری کیئے جائیں گے اور یہ صرف ایسے افراد کو جاری کیئے جائیں گے جنہوں نے کورونا ویکسین لگوالی ہے۔

یہ خبر پڑھیں : رمضان میں بلااجازت عمرہ ادا کرنے پر 10 ہزار ریال جرمانہ عائد

حرمین شریفین میں مختلف کاموں کی انجام دہی کے لیے موجود سرکاری ملازمین کے لیے بھی کورونا ویکسی نیشن ہونا لازمی ہے۔ اس حوالے سے وزارت حج و عمرہ نے مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں کو اپنے ملازمین کی کورونا ویکسی نیشن کرانے کی ہدایت کی ہے۔

قیام اللیل کے لیے عبادت گزاروں کی طرح وہاں کام کرنے واکے ملازمین کو بھی توکلنا ایپ میں اپنی حیثیت اپ ڈیٹ کرنا ہوگی جن ملازمین کی ویکسی نیشن نہیں ہوگی انہیں حرم میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : رمضان میں عمرہ زائرین کو کورونا ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں، سعودی عرب 

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا سے 19 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ ایک ہزار 36 نئے کیسز سامنے آئے اس طرح کیسز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 16 ہزار 307 ہے جب کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 946 افراد لقمہ اجل بن گئے جب کہ مملکت میں 89 لاکھ 69 ہزار 167 افراد کو ویکسین لگ چکی ہے۔

The post خانہ کعبہ اور مسجد النبوی میں آخری عشرے کی قیام اللیل کیلیے نئے احکامات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3vs3b6P

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...