Skip to main content

شادی کے بعد بختاور کی شوہر کےہمراہ پہلی تصویر منظرعام پر

کراچی: شہید بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی شادی کے بعد شوہر کے ہمراہ پہلی تصویر منظرعام پر آگئی۔

بختاور بھٹو کی شادی 29 جنوری کو دبئی کے بزنس مین محمود چوہدری کے ساتھ ہوئی اور گزشتہ روز کراچی بلاول ہاؤس میں ان کے استقبالیے کی تقریب منعقد ہوئی۔

نکاح والے دن بختاور نے ڈیزائنر وردہ سلیم کا کامدار سنہرا لباس زیب تن کیا تھا جب کہ محمود چوہدری نے سفید شیروانی اور روایتی کلہ پہنا تھا۔

دونوں کے نکاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں. تاہم نکاح کی کسی بھی تصویر میں دلہا اور دلہن ایک ساتھ نہیں دکھائی دئیے تھے۔

گزشتہ روز شرمیلا فاروقی نے استقبالیے کی تقریب میں موجود دلہن بختاور کی ان کے بھائی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری کے ہمراہ ان کی تصویر شیئر کی تھی۔

اور آج شرمیلا فاروقی نے ہی نوبیاہتا جوڑے کی تصویر شیئر کی ہےاور دونوں کو شادی کی مبارکباد دی ہے۔ شادی کے بعد بختاور اور محمود چوہدری کی یہ پہلی تصویر ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ تصویر میں  دیکھا جاسکتا ہے کہ بختاور نے اپنے استقبالیے کی تقریب کے لیے گہرے سبز اور سنہری کام والا لباس زیب تن کیا ہے اور لباس سے میچ کرتاہوا ماسک اور جیولری پہنی ہے۔ جب کہ ان کے شوہر سیاہ رنگ کے لباس میں نظر آرہے ہیں۔

دلہا دلہن کی یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں کی جانب سے نئے شادی شدہ جوڑے کو نئی زندگی کے لیے نیک تمنائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

استقبالیے کی تقریب میں شرمیلا فاروقی کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ اپنے لباس سے میچنگ کا ماسک لگائی ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ بختاور بھٹو کے استقبالیے کی تقریب میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، سمیت پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی، صوبائی وزرا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر اور ملک بھر سے آنے والے مہمان شریک ہوئے۔

استقبالیے کی تقریب میں بختاور کی بہن آصفہ بھٹوزرداری، پھپھو فریال تالپور کے علاوہ دیگر شرکا کورونا ایس اوپیز کے تحت ماسک پہنے ہوئے تھے۔

Image

The post شادی کے بعد بختاور کی شوہر کےہمراہ پہلی تصویر منظرعام پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3r3ol99

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...