Skip to main content

کراچی میں کورونا ویکسین کیلیے انتظامات مکمل، 10 مراکز قائم

کراچی: سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو پہلی بار کووڈ19 سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگانے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے۔

کراچی میں کووڈ 19 کی ویکسین ویکسین  لگانے کا عمل فروری کے پہلے ہفتے میں شروع کیا جائے گا جب کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکروں کی فہرست این سی او سی نے نادرا کی مدد سے مرتب کر لی ہے جو صوبائی محکمہ صحت کو بھیج دی گئی ہے۔

کووڈ19 کی لگائی جانے والی حفاظتی ویکسین وفاقی حکومت کی مرتب کی جانے والی حکمت عملی کے تحت لگائی جائے گی۔ سرکاری اسپتالوں کے ملازمین کو لگائی جانے والی کووڈ19 ویکسین وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

معلوم ہوا ہے کہ پیر کو این سی او سی کے ماہرین کی ٹیم کراچی میں قائم کیے جانے والے کووڈ19 ویکسین کے 10 مراکز کا دورہ کرے گی جس کے بعد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو کووڈ19 سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگانے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو کووڈ19 کی ویکسین کی خریداری کیلیے 3 کمپنیوں سے رابطہ قائم کرلیا ہے جس میں بھارت کی ایک کمپنی بھی شامل ہے۔

دریں اثنا ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ندیم شیخ نے ’’ ایکسپریس ‘‘ کو بتایا کہ کووڈ 19 ویکسین لگانے کیلیے کراچی کے 6 اضلاع میں 10 حفاظتی ویکسینیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع وسطی میں 3 ویکسین کے مراکز جبکہ ضلع غربی میں 1، ضلع شرقی میں 2، ضلع جنوب میں  2، ملیر میں 1 اور ضلع کورنگی میں بھی ویکسین کا 1 مرکز قائم کرلیا گیا ہے۔

جن مراکز میں ویکسین لگائی جائے گی، ان میں جناح اسپتال، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی، سندھ گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی، سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال اورنگی ٹاؤن، خالق دینا ہال،سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی 5 نمبر، جبکہ آغا خان اسپتال کراچی، اور کراچی یونیورسٹی کے سامنے ڈاؤ یونیورسٹی کے کیمپس اور اربن ہیلتھ سینٹر تھڈونالو میں مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

اندورن سندھ میں بدین نیو ڈسٹرکٹ ہیلتھ کواٹر بلڈنگ، لاڑکانہ میں چانڈکا میڈیکل کالج، سکھر میں اولڈ آئی ایچ ایس اسپتال، شہید بنظیر آبادمیں کووڈ19کی حفاظتی ویکسین لگانے کے مراکز بھی قائم کیے گیے ہیں۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ندیم شیخ نے مزید بتایا کہ کراچی میں 1100 ویکسینیٹر  ہیں جبکہ صوبے بھر میں ویکسینیٹروں کی تعداد 4200 ہے جو محکمہ صحت کے ملازم ہیں۔ ویکسین لگانے سے قبل ویکسینٹروں کو ویکسین لگانے اور ویکسین کی افادیت کو برقرار رکھنے کیلیے آگاہی سیشن بھی دیا جائے گا۔ ہر ویکسینیشن سینٹر میں 10 کیوبیکل بنائے گئے ہیں جہاں بیک وقت 10 فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جائی گی۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین مراکز میں 12 سے 15 ویکسینیٹروں کو تعینات کیا جائے گا۔ ویکسین کی پہلی ڈوز لگانے کے بعد مذکورہ شخص کو ویکسین کا کارڈ بھی فراہم کیا جائے گا جس میں لگائی جانے والی ویکسین کی تاریخ،مذکورہ شخص کا نام اور دیگر تفصیلات بھی درج ہوں گی۔

ویکسین کارڈ تیاری کے مراحل میں ہیں جو آئندہ چند دن میں ویکسینیشن مراکز کو فراہم کردیے جائیں گے۔ یہی کارڈ عوام کو بھی فراہم کیے جائیں گے، ویکسینشن کی رجسٹریشن کرانے کیلیے 1166 پر ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کرلی جائے گی۔ رجسٹریشن کراتے وقت مذکورہ شخص کو اپنا شناختی کارڈ نمبر بھی بھیجنا ہوگا جس کی تصدیق نادرا سے کی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں کمیونٹی میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا جس میں حفاظتی ویکسین کو عمر کے لحاظ سے لگائے جانے کی حکمت عملی طے کی جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں عوام میں لگائی جانے والی ویکسین بڑی عمر کے افراد کو لگائی جائے گی۔ عوام کو لگائی جانے والی ویکسین بھی انھی قائم کیے جانے والے ویکسین مراکز میں لگائی جائے گی۔ ویکسین لگانے کے مراکز میں ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ موجود رہے گا۔

دریں اثنا پاکستان میں کووڈ19 ویکسین کو درآمد کرنے کیلیے 3 مختلف کمپنیوں نے ویکسین کی رجسٹریشن کرالی ہے۔ ان تینوں پرائیویٹ کمپنیوں میں سے ایک کمپنی نے روس کی ویکسین رجسٹر ڈکروائی  ہے، جبکہ ایک اور کمپنی نے چین  کی ویکسین، کراچی میں ایک معروف سندھ میڈیکل کپمینی نے بھی ویکسین  پاکستان میں رجسٹرڈ کرائی ہے۔

ان تینوں کمپینوں میں سے ایک کمپنی بھارت تیار کی جانے والی کووڈ 19  ویکسین پاکستان میں لانے کیلیے کوششیں کررہی ہے کیونکہ پاکستان میں وفاقی حکومت نے ابھی تک ویکسین کی قیمت کا تعین نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ تینوں کمپنیاں کووڈ19 ویکسین کو پاکستان میں درآمد نہیں کررہی۔ پاکستان میں ان ویکسین کی قیمتوں کے تعین کے بعد ویکسین درآمد کی جائے گی۔  واضح رہے کہ تینوں کمپنیاں پرائیویٹ ہے۔

ادھر چین  نے حکومت پاکستان کو کووڈ19 کی ویکسین کے5 لاکھ ڈوز عطیہ کیے ہیں جوڈھائی لاکھ افراد کو لگائے جاسکیں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کوشش کررہی ہے کہ پاکستان  میں کووڈ19 ویکسین کسی بھی ملک سے مفت میں حاصل کی جاسکے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پاکستان ویکسین کی براہ راست خریداری سے بچنے کیلیے GAVI این جی او سے رابطہ کیا ہے تاکہ حکومت پاکستان کو ویکسین بلامعاوضہ منگوائی جاسکے۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ نیب کے خوف سے حکومت پاکستان کسی بھی بڑی خریداری سے اجتناب کررہی ہے۔ ادھر حکومت سندھ نے ویکسین منگوانے کے لیے  مختلف کمپنیوں سے رابطہ کرلیا ہے۔

 

The post کراچی میں کورونا ویکسین کیلیے انتظامات مکمل، 10 مراکز قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Ys19oI

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...