Skip to main content

یورپی یونین نے پی آئی اے پروازیں عارضی طور پر بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی

 کراچی: یورپی یونین سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پی آئی اے کی یورپ میں پروازوں کی عارضی اور مشروط بحالی سے معذرت کرلی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یورپی ممالک میں قومی ایئر لائن کے فضائی آپریشن پر کئی ماہ سے پابندی عائد ہے۔ اس حوالے سے یورپی یونین سیفٹی ایجنسی(ایاسا) کی جانب سے پی آئی اے انتظامیہ کو ان کے ارسال کردہ ایک خط کا جواب موصول ہوگیا ہے جس میں پی آئی اے نے ایاسا سے پروازوں کی عبوری اجازت مانگی تھی۔

ایاسا نے خط میں کہا ہے کہ ایاسا کا قانونی دائرہ کار کسی بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کو عارضی یا مشروط اجازت دینے کا امکان فراہم نہیں کرتا، ہمارے ماہرین نے پاکستان کے حفاظتی انتظام کے نظام کو بہتر بنانے کے اصلاحی کارروائی سے متعلق تمام مواد اور اضافی معاون دلائل کا جائزہ لیا ہے، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سرٹیفکیشن اور نگرانی کی کارکردگی میں عدم اعتماد کا پہلو پایا جاتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان ہی وجوہات کی بناء پر یورپی یونین کمیشن کے ذریعے ہونے والی تحقیقات پی آئی اے کے یورپ میں فضائی آپریشن کو معطل کرنے کا باعث بنی، پی آئی اے پروازوں کی بحالی کے لیے سی اے اے پاکستان کا سیفٹی آڈٹ ناگزیر یے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ یورپ اور برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ پی آئی اے کے سی ای او ائر مارشل ارشد ملک نے یورپی ادارے کے پی آئی اے کے حوالے سے کیے گئے آڈٹ سے مطمئن ہونے کے بعد ہی خط لکھا تھا۔

خط میں سی ای او نے پی آئی اے کو سول ایوی ایشن سے غیر منسلک کرکے آزادانہ آڈٹ کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ جب تک سی اے اے آڈٹ کلیئر نہیں کرتا پی آئی اے کو عبوری اجازت دی جائے تاہم یہ درخواست منظور نہ ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ایاسا کے سب سے بنیادی مطالبے کے تناظر میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے معاملات کی درستی کا جلد امکان نہیں۔ دریں اثنا پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے بھی ایاسا کی جانب سے جوابی لیٹر ملنے کی تصدیق کی ہے۔

The post یورپی یونین نے پی آئی اے پروازیں عارضی طور پر بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34Kuazs

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...