Skip to main content

ایران میں مقامی سطح پر تیار کردہ کورونا ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگیا

تہران: ایران میں مقامی سطح پر کورونا ویکسین تیار کر لی گئی ہے اور 3 رضا کاروں کو ویکسین لگا کر ٹرائل کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں مقامی سطح پر تیار کی گئی کورونا ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے ایران کے نائب صدر برائے سائنس اینڈ ٹکنالوجی سورینا ستاری اور وزیر صحت سعید نامکی سمیت سینئر عہدیداروں کی موجودگی میں 3 رضاکاروں کو ویکسین کے ٹیکے لگائے گئے۔

مقامی سطح پر تیار کردہ ویکسین کے ٹرائل میں حصہ لینے کے لیے 20 ہزار سے زائد رضاکاروں نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 56 رضاکاروں کو ویکسین کے 14 دن کے فرق سے دو ٹیکے لگائے جائیں گے پھر ان کے نتائج کی جانچ پڑتال کے جائے گی اور چار ہفتوں بعد ویکسین کے استثنیٰ کے ردعمل کو جانچا جائے گا۔

اس حوالے سے وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیداروں نے میڈیا کو بتایا کہ جب تک ویکسین کو بڑے پیمانے پر استعمال کے لئے حتمی منظوری نہیں مل جاتی ہے تب تک ایران عالمی ادارہ صحت سے دیگر کورونا ویکسین کی خریداری کی کوششیں جاری رکھے گا۔

گزشتہ ہفتے ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدولنسر ہیممتی نے کہا تھا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بینک ٹرانزیکشن میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر قابو پالیا گیا ہے اور اب ویکسین کی خریداری کے لئے رقم کی منتقلی کا ابتدائی معاہدہ کیا گیا ہے۔

ایران کے اعلی بینکر نے مزید بتایا تھا کہ بینک نے اس مرحلے پر ویکسین کی خریداری کے لئے 200 ملین یورو مختص کیے ہیں اور بعد میں مزید وسائل مختص کرنے پر راضی ہیں۔

قبل زیں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح مقامی سطح پر کورونا ویکسین کی تیاری ہے  جس کے لیے دوسرے ممالک سے بھی تعاون کی درخواست کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ محتاط اندازے کے مطابق اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 54 ہزار سے زائد ہے۔

The post ایران میں مقامی سطح پر تیار کردہ کورونا ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/38Nqvlw

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...