Skip to main content

برطانیہ میں ایک اور کورونا ویکسین کی منظوری دیدی گئی

 لندن: برطانیہ میں فائزر کی کورونا ویکسین کے بعد اب آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کی بھی منظوری دیدی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ نے فائزر کی کورونا ویکسین کے بعد ایک اور ویکسین کی بھی منظوری دیدی ہے۔ دوسری ویکسین کے لیے قرعہ فال  آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرا زینیکا کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کورونا ویکسین کے نام نکلا ہے۔

یہ خبر پڑھیں : بحرین کورونا ویکسین کی منظوری دینے والا پہلا اسلامی ملک بن گیا 

برطانیہ میں سب سے پہلے فائزر کی کورونا ویکسین کی منظوری دی گئی تھی اور ویکسینیشن کا آغاز بھی ہوگیا ہے تاہم دوسری کورونا ویکسین کی منظوری سے ملک میں فوری اور زیادہ سے زیادہ ویکسین کی فراہمی یقینی ہوجائے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں : برطانیہ اور جنوبی افریقا میں کورونا وائرس کی نئی قسم دریافت

قبل ازیں امریکا نے بھی فائزر کے بعد ایک اور ویکسین ’موڈرنا‘ کی بھی منطوری دی تھی اسی طرح بحرین سمیت کئی ممالک نے بھی فائزر کے ستھ ساتھ چین کی کورونا ویکسین کی بھی منظوری دے چکے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : دنیا کی پہلی کورونا ویکسین برطانیہ کی 90 سالہ خاتون کو لگا دی گئی 

برطانیہ میں کورونا ویکسینیشن کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نئی قسم کے کورونا وائرس کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جس پر کئی ممالک نے برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن کو بند کردیا ہے۔

یہ  پڑھیں : سعودی عرب اور بحرین میں بھی کورونا ویکسینیشن کا آغاز 

آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ویکسین کورونا کی نئی قسم کے خلاف بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بائیوٹیک کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ فائزر کی ویکسین بھی نئی قسم کے کورونا وائرس کیخلاف کام کرے گی تاہم ایسا نہیں ہوا تو نئی ویکسین چند ہفتوں میں بنا سکتے ہیں۔

 

The post برطانیہ میں ایک اور کورونا ویکسین کی منظوری دیدی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3pxfls0

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...