Skip to main content

ملتان میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکن قاسم باغ اسٹیڈیم میں داخل

ملتان: انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے قاسم باغ اسٹیڈیم میں داخل ہو گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملتان میں اپوزیشن کے اعلان کردہ جلسے کے حوالے سے گزشتہ چند روز کے دوران اپوزیشن اور پنجاب حکومت کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرلی ہے۔ حکومت نے کورونا ایس او پیز کے تحت جلسے کی اجازت نہیں دی اور ملتان ڈویژن میں کورونا ایس پیز کی خلاف ورزی پر اب تک 9 مقدمات درج ہوچکے ہیں جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جلسہ ضرور ہوگا۔

ملتان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے الگ الگ ریلیاں نکالیں اور قلعہ کہنہ قاسم باغ کا رخ کیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی قیادت علی موسی گیلانی کررہے تھے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن عبدالرحمان کانجو اور طارق رشیدکی قیادت میں قاسم باغ اسٹیڈیم پہنچے، بعد ازاں جے یو آئی (ف) کے قافلے بھی اسٹیڈیم میں داخل ہوگئے۔

دوسری جانب کمشنر ملتان جاوید اختر محمود نے کورونا کنٹرول ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے انہوں نے متعلقہ حکام کو ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف ایف آئی آر درج کروانے کا حکم دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ کسی عوامی مجمع یا خفیہ میٹنگ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس حوالے سے پنجاب کے وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ پوری قوم کورونا وائرس سے گھبرائی ہوئی ہے، ایس او پی کی خلاف ورزی 21 توپوں کی سلامی نہیں دی جاسکتی، اپوزیشن سے گزشتہ 20 دن سے مذاکرات کی کوشش کررہے ہیں، کارکنوں کو چاہیے کہ اپنی لیڈر شپ کو سمجھائیں۔

واضح رہے کہ ملتان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے بے نظیر بھٹو کی سب سے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری بھی خطاب کریں گی۔

The post ملتان میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکن قاسم باغ اسٹیڈیم میں داخل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/36fqcQv

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...