Skip to main content

کورونا ویکسین بنانے والی بھارتی کمپنی پرآزمائش میں شریک رضا کار کا مقدمہ

نئی دہلی: بھارتی کمپنی کی زیر تکمیل کورونا ویکسین کی آزمائش میں شریک ہونے والے رضاکار نے اعصابی پیچیدگیاں پیش آنے کے باعث 5 کروڑ ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 40 سالہ شخص  کے وکیل این جی آر پرساد کا کہنا ہے کہ آزمائشی خوراک استعمال کرنے کے بعد میرے موکل کو اعصابی صحت سے متعلق شکایات پیش آئیں۔ اس لیے ہم نے سیرم انسٹی ٹیوٹ، انڈین کونسل فور میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) ، آسٹرا زینیکا، ڈرگ کنٹرولر جنرل انڈیا، اینڈریو پولارڈ، چیف انویسٹی گیٹر، آکسفرڈ ویکسین ٹرائل ، آکسفرڈ یونیورسٹی اور دیگر کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا ہے۔

وکیل کے مطابق دخواست دائر کرنے کے بعد  21 نومبر کو تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے تھے تاہم ابھی تک انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بھیجے گئے نوٹس کے مطابق مدعی کی عمر چالیس سال ہے، اس کی شادی ہوچکی ہے اور اس کے 12 اور 7 سال کے دو بچے بھی ہیں۔

درخواست میں فریق بنائے گئے اداروں کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق جب مدعی کو معلوم ہوا کہ سری راما چندرا انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں آکسفرڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کی آزمائش ہورہی ہے تو مفادعامہ کے لیے اس نے اس میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔

رضاکار بننے پر راما چندرا انسٹی ٹیوٹ نے شرکا کو ایک معلومات نامہ فراہم کیا تھا کہ جس کے مطابقیہ  آزمائش سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور  آئی سی ایم آر کے زیر اہتمام ہورہی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آکسفرڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین دنیا میں 18 سے 55 برس کے  500 صحت مند افراد کودی جاچکی ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی آزمایش کے لیے برطانیہ ، برازیل اور جنوبی افریقا میں اس کی آزمائشیں جاری ہیں۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے بھی آکسفرڈ یونیورسٹی اور برطانوی دوا ساز کمپنی کے ساتھ ملک کر کمرشل سطح پر کووی شیلڈ کے نام سے ویکسین تیار کی ہے جس کے لیے آزمائش کا اہتمام کیا گیا ۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی آزمائش کے منتظمین کی جانب سے رضاکاروں کو بتایا گیا تھا کہ ویکسین استعمال کے لیے محفوظ ہے اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اس کی مزید آزمائش ہورہی ہے۔ تاہم اس سے کے علاوہ رضا کاروں کو ویکسین کے ممکنہ ضمنی یا مضر اثرات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

نوٹس میں مدعی کی بیوی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے دس روز تک اس کے شوہر کی طبیعت ٹھیک رہی لیکن گیارہویں دن جب اسے صبح اٹھایا گیا تو اس نے سر میں شدید درد کی شکایت کی اور دوبارہ سو گیا جس کے بعد وہ دوپہر دو بچے بیدار ہوا۔

اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ دوپہر کو بیدار ہونے کے بعد سے اس کے شوہر کے معمول میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ اسے بار بار قے ہونے لگی۔ اب وہ روشنی اور ہلکے سے شور کی آواز سے بھی پریشان ہوجاتا ہے اور بستر سے اٹھانے کی ہر کوشش کی مزاحمت کرتا ہے۔

یکم اکتوبر کو ویکسین لگوانے کے بعد مذکورہ رضا کار کی طبیعت 11 اکتوبر کو بگڑنا شروع ہوئی۔  جس کے بعد وہ اسپتال میں داخل بھی رہا ۔ اس کے اہل خانہ کے مطابق طبیعت بگڑنے کے بعد کسی سرکاری ادارے یا ویکسین متعارف کروانے والے انسٹی ٹیوٹ نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

وکیل کے مطابق 12 نومبر کو اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد آنے ولی ای ای جی ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق ویکسین لگوانے والے رضا کار کا دماغ کے حصے متاثر پائے گئے ہیں اور اس کی یادداشت بھی کم زور ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ معمولی سے پیچیدہ سوچنے سمجھنے کے کاموں میں بھی اسے دشواری پیش آرہی ہے۔

ان اسباب کو بنیاد بنا کر رضاکار اور اس کے اہل خانہ نے متاثر فرد کو پہنچنے والی تکلیف اور مستقبل میں صحت سے متعلق لاحق خدشات کے باعث 5 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے اور ساتھ ہی اس ویکسین کی آزمائش، تیاری اور تقسیم فوری طور پر روکنے کی استدعا بھی کی ہے۔

ویکسین کی آزمائش کا اہتمام کرنے والے سری راما چندرا ہائر ایجوکیشن کی جانب سے اسے عدالتی معاملہ قرار دے کر کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کیا گیا ہے۔

The post کورونا ویکسین بنانے والی بھارتی کمپنی پرآزمائش میں شریک رضا کار کا مقدمہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/3ldpUhq

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...