Skip to main content

اپوزیشن اپنی ذاتی تقاریب کی کورونا ایس او پیز کارکنوں کیلئے بھی اپنائے، اسد عمر

سکھر: وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے اپنی ذاتی تقاریب کے لئے جو ایس او پیز اختیار کرتے ہیں وہی کارکنوں کے لئے اپنائیں۔

سکھر میں تقریب سے خطاب کے دوران اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کسی ایک صوبے کے لیڈر نہیں ہیں، وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ تمام شہریوں کو برابری کے حقوق ملیں اور ملک کے تمام حصوں میں یکساں ترقی چاہتے ہیں، بلوچستان کے جنوبی اضلاع کے لئے تاریخی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے، ہمیں صرف کراچی کے لئے کام نہیں کرنا ، ہم پورے سندھ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ سکھر میں منفی تبدیلی دیکھی کچھ مثبت نہیں دیکھا،سندھ کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت تعاون کرے گی۔

اسدعمر نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل سے پاکستان معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا، افغانستان میں امن کی امید نظر آرہی ہے، ہمارا امن بھی افغانستان سے جڑا ہوا ہے، پاکستان افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد سے بڑے برج الٹا دئیے، خود کو سیاسی خدا سمجھنے والے ایک پلیٹ فارم پر عمران خان کے خلاف  اکٹھے ہیں، (ن) لیگ کے رہنما کہتے ہیں کہ وہ اکیلے عمران خان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا صورتحال میں معاشی سرگرمیوں کے ساتھ عوام کاتحفظ ہماری ترجیح ہے، کورونا سے متعلق آصف زرداری اورعوام کے لیے الگ اصول ہے، یہ عوام کو کہتی ہیں کہ جلسوں میں آئیں اور خود کورونا ٹیسٹ کی شرط پر تقریب میں آنے کا کہتے ہیں، کورونا لیڈر اور کارکن میں تفریق نہیں کرتا، اپوزیشن والے اپنی ذاتی تقاریب کیلئے جو ایس او پیز اختیار کرتے ہیں وہی کارکنوں کے لئے اپنائیں، کیا حکمران کی زندگی اہم اور عوام کی زندگی اہم نہیں ہے۔

The post اپوزیشن اپنی ذاتی تقاریب کی کورونا ایس او پیز کارکنوں کیلئے بھی اپنائے، اسد عمر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/36d04FW

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...