Skip to main content

کابل ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اُٹھا

کابل: افغانستان کا دارالحکومت رواں ماہ میں تیسری بار دھماکوں سے گونج اُٹھا، اس بار دو الگ الگ مقامات پر بظاہر دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے سنے گئے، دونوں دھماکے الگ الگ مقام پر ہوئے تاہم یہ دونوں مقامات ایک دوسرے سے قریب ہونے کی وجہ سے دھماکوں کی آواز سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پہلے دھماکے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے کار مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور کار میں سوار چاروں افراد کو انتہائی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں چاروں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

یہ خبر پڑھیں : کابل یونیورسٹی پر مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق طلبا کی تعداد 30 ہوگئی

دوسرا دھماکا ایک مرکزی شاہراہ ہوا جس میں 3 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دھماکوں کے بعد بھگدڑ کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوگئے اور کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ علاقے کے دو بڑے اسپتالوں میں 12 سے زائد راہگیروں کو زخمی حالت میں لایا گیا ہے۔

یہ پڑھیں : امریکی وزیر خارجہ کی طالبان اور کابل حکومت کے نمائندوں سے قطر میں اہم ملاقاتیں

کابل پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکے بارودی سرنگ کے تھے جسے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے اُڑایا گیا تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حملے کا ہدف کون لوگ تھے۔ تاحال کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کابل دھماکوں اور راکٹ حملوں سے لرز اُٹھا، 8 ہلاک

واضح رہے کہ کابل میں رواں ماہ میں ہونے والا یہ تیسرا بڑا دھماکا ہے، دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی مداخلت کے باوجود تاحال پیشرفت نہیں ہوسکی ہے اور کابل میں پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

The post کابل ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اُٹھا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/33oow5g

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...