Skip to main content

’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا

 اسلام آباد: دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی قرار دیئے گئے ’کاون‘ کو خصوصی پرواز کے ذریعے بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر اسلام آباد چڑیا گھر سے رہائی پانے والے کاون ہاتھی کو روسی ساختہ خصوصی طیارے کے ذریعے پیر کی صبح براستہ نئی دہلی بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔ کاون کے ہمراہ 8 ٹیکنیکل اور 2 ڈاکٹرز پر مشتمل غیرملکیوں کی 10 رکنی ٹیم بھی کمبوڈیا گئی ہے۔

کاون کو خصوصی کنٹینر میں اسلام آباد ائیرپورٹ لایا گیا تھا جہاں کرین کی مدد سے اسے جہاز میں لوڈ کیا گیا، کاون کو گزشتہ شب 8 بجے روانہ کیا جانا تھا لیکن بھارت کی جانب سے طیارے کا اجازت نہ ملنے پر کاون ہاتھی کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔

’کاون‘ کی کہانی کیا ہے؟

’کاون‘ 1981 میں سری لنکا میں پیدا ہوا۔ 1985 میں سری لنکن حکومت نے اسے پپاکستان کو تحفے میں دیا تھا ۔ تب سے وہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہی تھا۔ 1991 میں بنگلا دیش نے پاکستان کو ایک ہتھنی تحفے میں دی جس کا نام ’سہیلی‘ رکھا گیا۔ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد ’کاون‘ دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا، ایک وقت ایسا آیا جب وہ اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

2016 میں سینیٹ کی کمیٹی نے کاون کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے پس و پیش کی گئی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا جہاں سے آنے والے حکم پر کاون کو بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزارے گا۔

The post ’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3llOWL6

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...