Skip to main content

پیپلزپارٹی کے بعد آنے والی دو حکومتوں نے صرف مہنگائی میں اضافہ کیا، بلاول

غذر: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زردار نے کہا ہے کہ اس جنوری تک کٹھ پتلیوں کوگھر بھجوارہےہیں۔

گلگت بلتستان کے  انتخابی مہم میں غذر کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے  بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اشاروں پر چلنے والے بھی کہتے ہیں ہم صوبہ دیں گے۔الیکشن سے ایک ماہ قبل انہوں نے بیانیے میں تبدیلی کی۔ گلگت بلتستان کوصوبہ بنانے کےمعاملے پر عمران خان کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھردینےکاوعدہ کرنے والوں نے عوام کے سر سےچھت چھین لی۔ آج ملک میں سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بعد آنے والی 2 حکومتوں نے صرف مہنگائی میں اضافہ کیا۔ موجودہ حکومت امیروں کو ریلیف اور غریبوں کوتکلیف دیتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت تبدیلی کے نام پر تباہی کررہی ہے۔ حکومت گلگت بلتستان کے وسائل پرقبضہ کرنا چاہتی ہے،اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس جنوری تک کٹھ پتلیوں کوگھر بھجوارہےہیں۔ حکمران صرف اپنے امیروں کو ریلیف دیتےہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر یہاں پرووٹ خریدنے کیلئے آئے ہیں، عوام کو کہتا ہوں آپ ان سے پیسہ لو ووٹ پیپلزپارٹی کو دو۔ پی ٹی آئی کے حکومت تبدیلی کےنام پر تباہی کر رہی ہے۔ ملک کا ہرطبقہ حکمرانوں کےخلاف احتجاج کررہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے سرکاری ملازمیں کے تنخواہوں میں ڈیڑھ سو گنا اضافہ کیا۔ دس کروڑنوکریوں کاوعدہ کرنے والوں کے دور میں تاریخی بے روزگاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت کے لوگ باشعورہیں وہ عمران خان کےجھوٹےدعوؤں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ صوبہ ملےگاتوپیپلزپارٹی سے ملےگا۔ اشاروں پر چلنے والےبھی گلگت بلتستان کو مان چکےہیں۔ 2018کےمنشور میں ہم نے گلگت بلتسان کے صوبہ کا مطالبہ شامل کیا۔

یادگارِ شہدا پر حاضری

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گاہکوچ میں 12 این ایل آئی کے حوالدار لالک جان شہید کی یادگارپر حاضری دی اور  پھول چڑھائے اور یادگار شہداء پر ستارہ جرات، تمغہ جرات اور تمغہ بسالت پانے والے دیگر 31 جوانوں کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔

The post پیپلزپارٹی کے بعد آنے والی دو حکومتوں نے صرف مہنگائی میں اضافہ کیا، بلاول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/35RisTp

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...