Skip to main content

پرندوں کو بوتل کے ڈھکنے کے بدلے کھانا دینے والی مشین

سویڈن: کوے اور دیگر پرندے بہت ہوشیار ہوتے ہیں اور کئی اقسام کے اوزار بھی بناکر استعمال کرلیتے ہیں۔ اب ایک صاحب نے ایسی مشین بنائی ہے جس میں پرندہ اگر بوتل کا ڈھکنا گراتا ہے تو اس کے بدلے مشین پرندے کو کھانا فراہم کرتی ہے۔

سویڈن میں روبوٹک اور مصنوعی ذہانت کے ماہر ہانس فورسبرگ نے ایک مشین بنائی ہے جس پر اب نیل کنٹھ جیسے یورپی پرندے (میگ پائز) اطراف سے بوتل کے ڈھکن لاکر ڈالتے ہیں اور بدلے میں کھانا کھاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرندے اس کے عادی ہوگئے ہیں اور وہ روزانہ ہی سڑک پر گرے بوتل کے ڈھکنے لاکر انعام کے طور پر مشین سے اپنا دانہ لے جاتے ہیں۔

ہانس فورسبرگ کےمطابق میگ پائی پرندے بہت ذہین ہوتےہیں اور انہوں نے یہ اہم کام بھی سیکھ لیا ۔ اب روزانہ کئی پرندے باغات، بیک یارڈ،سڑکوں اور دیگر مقامات سے بوتل کے ڈھکنے لے کر آتے ہیں ۔ اس کے بدلے ئانس کو ری سائیکل کا سامان مل جاتا ہے۔ اس طرح پرندے سڑکوں سے کوڑا کم کرکے اپنی خوراک کا تحفہ لے رہے ہیں۔ اس کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔

ہانس نے ایک بار اپنے گھر کے باغ میں دیکھا کہ یہ پرندے بلبوں پر لگے شیشے کے لاک کو کھولنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بعد انہیں مشین بنانے کا خیال آیا۔ ہانس کے مطابق ان پرندوں نے ری سائیکلنگ میں مدد کرکے انہیں حیران کردیا ہے۔ یہ پرندے کووں کی طرح چیزوں کو لے اڑنے کے ماہر بھی ہوتےہیں۔

مشین میں ایک سوراخ ہے جس کے اندر بوتل کا ڈھکنا گرایا جاتا ہے اور اس کے بدلے مشین دانہ پھینکتی ہے۔ ان میں مونگ پھلیاں اور دیگر دانے شامل ہیں۔ ہر پرندے کو ایک ڈھکنے کے بدلے غذا کے دو ٹکڑے ملتے ہیں۔ انہوں نے رسبری پائی کی مدد سے یہ نظام بنایا ہے۔

ہانس کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس کے اطراف میں بوتل کے کئی ڈھکنے ہوتے ہیں اور پرندے انہیں وہاں سے بھی جمع کرلیتے ہیں جہاں انسانی آنکھ نہیں پہنچ پاتی۔ اگلے مرحلے میں وہ ان پرندوں کو سگریٹ کے بچے ہوئے ٹکڑے اور دیگر کوڑا کرکٹ اٹھانے کی تربیت بھی فراہم کریں گے۔

تاہم بعض افراد نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسیوں کو اپنے حصے کی صفائی کرنی چاہیے اور ہانس سے کہا ہے کہ انہیں چاہیے کہ پرندوں کو کسی لالچ کے بغیر کھانا فراہم کریں۔

The post پرندوں کو بوتل کے ڈھکنے کے بدلے کھانا دینے والی مشین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب https://ift.tt/3kGgmMh

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...