Skip to main content

حکومت نے گیس منصوبوں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریمارکس دیدیے ہیں کہ حکومت نے گیس کے کسی بھی منصوبے پر کوئی کام شروع نہیں کیا جب کہ سارا پیسہ صرف دفاتر بنانے پر ہی خرچ کیا گیا ہے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربرا ہی میں بینچ نے جی آئی ڈی سی کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ نجی کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ حکومت اب تک 271 ارب سے زائد جمع کر چکی ہے۔ ٹاپی، شمالی و جنوبی گیس پائپ لائن ، زیر زمین اسٹوریج منصوبوں کے بعد 120ارب سے  زائد رقم بچ جائے گی۔ حکومت چاہے تو بقیہ رقم سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ شروع کرسکتی ہے۔ اس لیے حکومت کی جانب سے مزید456ارب روپے جمع کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہاگیس منصوبوں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا جو پیسہ خرچ کیا گیا وہ بھی صرف صرف دفاتر بنانے پر ہی پیسہ خرچ کیا۔

جسٹس مشیر عالم نے کہاحکومت کو مزید رقم وصول کرنے سے روک چکے ہیں۔ فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ حکومت کو پہلے وصول کی گئی رقم خرچ کرنا ہوگی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاحکومت کے سارے منصوبے ابھی ہوا میں ہی ہیں۔

نجی کمپنیوں کے دوسر ے وکیل عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ کئی صنعتوں نے حکم امتناع کے باعث گیس انفرا اسٹرکچر سیس وصول ہی نہیں کیا۔ عدالت کمیشن تشکیل دے جو وصولی کی تحقیقات کرے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہاحکم امتناع بھی عدالتی فیصلے کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کسی کمپنی کے حکم امتناع لینے سے واجب الادا رقم ختم نہیں ہوتی۔ عدالت نے مزید سماعت سوموار تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر کارروائی مکمل کر لیں گے۔

 

The post حکومت نے گیس منصوبوں پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، سپریم کورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/31RxqHS

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...