Skip to main content

گالیاں دینے والے طوطوں کو پارک سے بیدخل کردیا گیا

لندن: برطانیہ کے ایک فیملی سفاری پارک سے گزشتہ دنوں پانچ سرمئی افریقی طوطوں کو نکال باہر کیا گیا کیونکہ وہ نہ صرف بہت گالیاں بکنے لگے تھے بلکہ گالیاں دینے کے بعد زور زور سے ہنستے بھی تھے۔

خبروں کے مطابق، یہ افریقی طوطے 15 اگست کے روز اس فیملی سفاری پارک میں لائے گئے لیکن قرنطینہ/ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ پارک عام لوگوں کےلیے بند تھا، لہذا پارک کے ملازمین نے انہیں ایک کمرے میں دیگر پرندوں کے ساتھ رکھ دیا۔

ملازمین جانتے تھے کہ یہ افریقی طوطے انسانی آوازوں کی نقل کرنا بہت جلد سیکھ جاتے ہیں، اس لیے اپنی فراغت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ طوطوں کے سامنے گالیاں بکتے اور پھر زور زور سے ہنستے۔

ان کی دیکھا دیکھی طوطے بھی ایسا ہی کرنے لگے اور یوں سفاری پارک کے ملازمین کو ایک نئی تفریح مل گئی۔ چند دنوں میں یہ طوطے بڑی روانی کے ساتھ خود ہی گالیاں دینے لگے۔ خاص کر جیسے ہی کوئی انسان ان کے سامنے آتا، ان کی چونچ سے گالیوں بھری آوازیں اور پھر قہقہے بلند ہونے لگتے۔

گزشتہ ہفتے یہ سفاری پارک محدود طور پر شہریوں کےلیے کھول دیا گیا تاہم ابھی تک یہاں بچوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ تفریح کی غرض سے آنے والے لوگوں کو دیکھ کر طوطوں نے معمول کے مطابق گالیاں دینا اور ہنسنا شروع کردیا۔

اگرچہ اس حرکت سے وہاں آنے والے لوگوں کو بہت مزا آیا لیکن پارک انتظامیہ کو احساس ہوا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران جب بچوں کو پارک میں داخلے کی اجازت ملے گی، اور یہ طوطے ان کے سامنے بھی گالیاں دے کر ہنسیں گے، تو بچوں پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔

یہ سوچ کر ان طوطوں کو فوری طور پر سفاری پارک سے نکال باہر کرکے ایک الگ گروپ میں رکھ دیا گیا ہے جہاں ان کی ’’اخلاقی تربیت‘‘ کی جارہی ہے تاکہ وہ گالیاں دینے کے بجائے کچھ اور کہنا سیکھ سکیں۔

The post گالیاں دینے والے طوطوں کو پارک سے بیدخل کردیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب https://ift.tt/3cM4ZPG

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...