Skip to main content

افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، عبداللہ عبداللہ

 اسلام آباد: افغان اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کی طرف سے گرمجوشی اور دوستی کاپیغام لایا ہوں، دورہ پاکستان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نئے مذاکراتی دور کا آغاز کرنا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، ان کے عوام کے درمیان بہترین تعلقات کا خواہاں ہوں۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن ہوگا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے امن مذاکرات سے متعلق گفتگو ہوئی، ہم نے آگے بڑھ کر تجارت، کاروبار اور عوامی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا، معیشت کی بہتری کے لیے دونوں ممالک میں آزادانہ تجارت کو فروغ دینا ضروری ہے، دونوں ممالک کو ایک ہی وقت میں کورونا، معیشت، دہشت گردی اور مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

چیئرمین مفاہمتی کونسل نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے ہم ساتھ بیٹھ کر نتیجہ خیز مذاکرات سے ترقی کی طرف بڑھیں، افغان عمل میں پاکستان کے اہم کردار سے کوئی انکار نہیں، افغان عوام گزشتہ 19 سال سے امن کا خواب دیکھ رہے ہیں، قیام امن کے لیے ہمیں دیانت داری سے اقدامات اٹھانے ہوں گے، اپنےعوام کی امنگوں کے مطابق ہمیں نئے مستقبل کی جانب دیکھنا ہے، کابل اور اسلام آباد کو تمام معاملات میں ایک دوسرے کو معاونت فراہم کرنا ہوگا۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ یہ باہمی تعلقات میں گرم جوشی کا ایک نیا دور ہے، دونوں ممالک میں اچھے دور کا آغاز ہوا ہے جس سے ہم نے موقع ضائع کیے بغیر فائدہ اٹھانا ہوگا، افغان عوام اپنے ملک میں دہشت گردوں کے قدموں کی موجودگی نہیں چاہتے، نہ ہی ہم اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں، ہم خودمختار افغانستان چاہتے ہیں جس میں کسی قسم کا دہشت گرد گروہ نہ ہو جو ہمارے ہمسائیوں کو نقصان پہنچائے۔

عبداللہ عبداللہ نے مزید کہا کہ افغان طالبان اور افغان قومی حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک سنہری موقع ہے، ہم افغانستان کے تمام شراکت داروں کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہیں، ہمیں مذاکرات کے ان لمحات سے فائدہ اٹھانا ہوگا، ہمیں اس تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا ہے۔

The post افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، عبداللہ عبداللہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2S68E1h

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...