Skip to main content

جب تک نیب ہے اس ملک میں کوئی کام نہیں ہوگا، شاہد خاقان عباسی

 راولپنڈی: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ یہ ساری سیاسی انجینئرنگ ہے اور جب تک نیب ہوگا اس ملک میں کوئی کام نہیں ہوگا۔

نیب راولپنڈی میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما (ن) لیگ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گرفتاری کسی بھی وقت ہوسکتی ہے، شہباز شریف کا ٹرائل چل رہا ہے پھر بھی گرفتار کرلیا گیا، یہ سب سیاسی انتقام کا سلسلہ ہے نیب نے ایم ڈی غلط لگانے کا الزام لگایا، آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ 6 سال قبل پی ایم ڈی سی کے ایم ڈی کی تعیناتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ساری تعیناتیاں غلط ہے بس ایک تعیناتی ٹھیک ہے وہ چیئرمین نیب کی تعیناتی ہے، ہمارے دور حکومت میں چیئرمین نیب کے علاوہ اگر تمام تعیناتیاں غلط ہوئی ہیں تو سب تعیناتیوں پر کیس بنا کر یہ تماشا بند کریں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب کا مقصد صرف سیاستدانوں اور وزراء کو بے عزت کرنا ہے، جو سرکاری افسر ایمانداری سے ریٹائرڈ ہوگیا اسے نیب میں گھسیٹا جارہا ہے، ملک میں جمہوریت کے لیے جگہ تنگ کی جا رہی ہے، آج ملک میں جمہوریت پسپا ہو رہی ہے اور یہ خوفناک بات ہے، کسی ملک نے جمہوریت کے بغیر ترقی نہیں کی، ہم بھی نہیں کر سکیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ساری سیاسی انجینئرنگ ہے، مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرلیں لیکن ملک کو چلنے دیں کیوں کہ جب تک نیب ہوگا اس ملک میں کوئی کام نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج  کرنا ہمارا جمہوری حق ہے، نیب نہیں وقت بتائے گا کہ عوام اس وقت پریشان ہیں اور اس حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔

رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ لوگ دعائیں کرتے ہیں کابینہ اجلاس نہ ہی ہوں تو اچھا ہے، کابینہ میں ادویات کی قیمتیں بڑھا دیں گئیں، حکومتی وزراء تقریبا 175 پریس کانفرنسیں کرچکے ہیں، وزارتوں میں کام نہیں ہے صرف پریس کانفرنسوں پر ان کا زور ہے جب کہ منی لانڈرنگ ایک فیشن ایبل لفظ بن چکا ہے تاہم نہ وزرا، نہ وزیر اعظم اور نہ ہی نیب کو منی لانڈرنگ کا معلوم ہے، پریس کانفرنس کرنا آسان اور جھوٹ بولنا اس سے بھی آسان کام ہے۔

The post جب تک نیب ہے اس ملک میں کوئی کام نہیں ہوگا، شاہد خاقان عباسی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jhxhUG

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...