Skip to main content

کراچی سمیت سندھ بھرمیں 7 ماہ کی بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال

 کراچی: شہرقائد سمیت سندھ بھرمیں سات ماہ کی طویل بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال ہوگئیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سندھ بھرمیں تدریسی عمل کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا، کورونا وباء کے پیش نظر طویل بندش کے بعد کراچی سمیت صوبے بھر میں نجی و سرکاری تعلیمی ادارے مکمل طور پر کھول دئیے گئے، پری پرائمری سے مڈل کلاسز کے طلبہ بھی والدین کے ہمراہ فیس ماسک پہن کر اسکول پہنچے، طویل چھٹیوں کے بعد اسکول آنے پر چند بچے انتہائی خوش تو چند افسردہ دکھائی دیے، کلاسوں میں بچوں کی حاضری 30 سے 40 فیصد رہی ہے۔

اسکول انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے بھرپور انتظامات کئے گئے، اسکول میں داخل ہونے سے قبل طالبعلموں، اساتزہ اور دیگرعملے کا تھرمل گن سے درجہ حرارت چیک کیا گیا، ہاتھوں کو سینیٹائز کیا گیا، جبکہ فیس ماسک پہننے کے بعد اسکول میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، اسکول کی کلاسوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سمیت صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا گیا، کرسی، میز اور فرش کو جراثیم کش اسپرے کرکے ڈس انفیکٹ کیا گیا۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ طالبعلموں سے اسکول میں کورونا ایس او پیزپرعملدرآمد کروانے سمیت انہیں ایس او پیز کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی جارہی ہے جبکہ والدین کو بھی خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں کوماسک پہننے اور سینیٹائزر کے استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے رہیں، جن طالبعلموں اور عملے کو بخار ہے انکو واپس گھر بھیجا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ بھر میں 15 ستمبر کو نویں دسویں جماعت، کالجز اورجامعات کھول دی گئیں تھیں، صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز سامنے آنے پر 21 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعتوں میں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغازکوایک ہفتے کے لئے مؤخرکیا تھا جسے 28 ستمبر سے دوبارہ بحال کردیا گیا ہے، محکمہ تعلیم سندھ سعید غنی کے احکامات کے مطابق تمام تعلیمی ادروں کوایس او پیزپرعمل کرنا ہوگا، بیمارطلبا یا اساتذہ اسکول نہیں آئیں گے جبکہ احتیاطی تدابیر پرعمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

The post کراچی سمیت سندھ بھرمیں 7 ماہ کی بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2G4X8ky

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...