Skip to main content

سندھ سیکریٹریٹ کمپلیسک کی تعمیر 4 سال سے التوا کا شکار

 کراچی:  حکومت سندھ کے تمام محکموں اور ذیلی اداروں کے دفاتر اور پارکنگ کے قیام کے لیے شروع کردہ میگا منصوبہ سندھ سیکریٹریٹ کمپلیکس انتظامی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے باعث گزشتہ 4 سال سے التوا کا شکار ہے۔

ایک طرف منصوبے کی لاگت بڑھتی جارہی ہے تو دوسری جانب حکومت سندھ کے جانب سے پرائیویٹ عمارتوں میں قائم دفاتر پر ہر ماہ کرائے کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگیاں جاری ہیں، منصوبے کے تحت سندھ ہائی کورٹ کے دائیں اور بائیں طرف سندھ سیکریٹریٹ کمپلیکس 7 اور 8 کے نام سے دو سیکریٹریٹ تعمیر ہونے ہیں جو مجموعی طور پر 10عمارتوں پر مشتمل ہونگے۔

ان میں دو عمارتیں 15، 15 فلور پر مبنی ہونگی جبکہ بقیہ 8 عمارتیں گراؤنڈ پلس 5 فلور کی بنیں گی، مجموعی طور پرسندھ سیکریٹریٹ کمپلیکس منصوبے کی ابتدائی لاگت 9 ارب 40 کروڑ روپے تھی جو ہر سال بڑھتی جارہی ہے، سندھ سیکریٹریٹ کمپلیکس کے منصوبے میں ایک ہزار سے زائد کاروں کے لیے پارکنگ کی تعمیر اور دیگر سہولیات بھی شامل ہیں۔

مذکورہ منصوبے کی منظوری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نے 5 اپریل 2012 کو دی تھی جبکہ نومبر 2012 میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی منظوری سے مذکورہ منصوبے کو پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) میں شامل کرکے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بجٹ مختص کرنا شروع کردیا گیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سندھ سیکریٹریٹ کمپلیکس نمبر 7 پر جون 2019 تک 1056 ملین روپے خرچ کیے گئے، جبکہ اسی عرصے تک سندھ سیکریٹریٹ نمبر 8 پر 210 ملین روپے کے اخراجات کیے گئے، تاہم انتظامی بے ضابطگیوں کی شروعات 2014 میں منصوبے کے پہلے ٹینڈر سے ہی ہوگئی۔

محکمہ ورکس اینڈ سروسز  کے افسر اور چیف انجنئر بلڈنگس حیدرآباد اختر حسین ڈاوچ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق سندھ سیکریٹریٹ نمبر 7 کے بیسمنٹ اور 15 فلور کی عمارت کی تعمیر کا ٹھیکہ یونائیٹڈ کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عمل میں سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزیاں کی گئیں جن میں گل برادرز کے نام سے سب کنٹریکٹر کو شامل کرنا، انشورنس گارنٹی کی اجازت دینا، موبلائیزیشن ایڈوانس اور سیکیوئرڈ ایڈوانس کی مد میں کنٹریکٹر کو کی گئی ادائیگی وصول نہ کرنا شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹر نے 374ملین روپے کا کام کیا لیکن اس وقت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر 678 ملین روپے کے اخراجات کرچکے تھے جن میں 150 ملین روپے سے زائد موبلائیزیشن الاؤنس اور 153 ملین روپے سے زائد کی رقم سیکیوئرڈ ایڈوانس کی مد میں اد کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اسی طرح گراؤنڈ پلس 5 فلور کی دو عمارتوں کی تعمیر کا ٹھیکہ دینے کے لیے دو کمپنیوں کے جعلی انضما م کو قبول کیا گیا اور یہ کام گل کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا جس نے پری کوالیفکیشن میں کوالیفائی ہی نہیں کیا تھا۔ تاہم کمپنی نے 20 جنوری 2017 کوکام کا آغاز کیا جو بعد میں موبلائیزیشن ایڈوانس اور سیکیوئرڈ ایڈوانس کے تنازعے کے باعث روک دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کامران آصف نے کنٹریکٹرز کو کام مکمل نہ ہونے کے باوجود بینک سیکیورٹی کی رقم واپس کردی،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ گل کنسٹرکشن کمپنی کو دیئے گئے تمام کام منسوخ کیے جائیں، رپورٹ میں اس وقت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کامران آصف کے خلاف قانونی کارروارئی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں ایکسپریس کی جانب سے جب تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اختر ڈاوچ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور اپنی سفارشات سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز کو جمع کرادی ہیں،یہ رپورٹ ستمبر 2019 میں جمع کرائی گئی، موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر غلام شبیر ڈیپر کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

The post سندھ سیکریٹریٹ کمپلیسک کی تعمیر 4 سال سے التوا کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ih62bv

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...