Skip to main content

سی اے اے اسکول کی غفلت، 150 طلبا کو ترقی نہ مل سکی

 کراچی: سول ایوی ایشن اسکول انتظامیہ کی بدترین انتظامی غفلت،امتحانی فارم جمع نہ ہونے کی وجہ سے150طلبا پروموٹ نہ ہوسکے جب کہ گزشتہ سال میٹرک کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنیو الے اسکول کا ایک بھی طالبعلم کامیاب نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق امتحانی فارم جمع نہ کروانے پر سی اے اے اسکول کے طلبا پروموٹ نہ ہوسکے،ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اسکول نمبر2کے سینئرٹیچرایوب چانڈیو کی جانب سے بدترین غفلت کی وجہ سے 150طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پرلگ گیا اورسال 2020 میں سول ایوی ایشن اسکول کا ایک بھی طالب علم امتحانی عمل میں شریک نہ ہوسکا۔

کراچی بورڈ نے تمام اسکولوں کے ایڈمٹ کارڈ جاری کیے تاہم سول ایوی ایشن کے اسکول نمبر 2 کے طلباایڈمٹ کارڈ سے محروم رہے۔ ایڈمٹ کارڈ حاصل کرنے اور امتحانی فارم جمع کرانے کی ذمے داری ٹیچر ایوب چانڈیو کی تھی،بچوں کو ایڈمٹ کارڈ نہ ملنے پر بھی اسکول ایڈمنسٹریٹر خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے،گزشتہ سال میڑک کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے اسکول کا ایک بھی طالب علم کامیاب نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق سینئر اسکول ٹیچرایوب چانڈیو نے بچوں کے والدین سے لاکھوں روپے امتحانی فیس وصول کی مگران کے امتحانی فارم جمع نہیں کرائے اورساری رقم ہڑپ کرلی،اسکول انتظامیہ کی انتظامی غفلت کی وجہ سے 150 طلباکا مستقبل داؤپرلگ گیا۔

سول ایوی ایشن اسکول نمبر 2 کے سینئر ٹیچر ایوب چانڈیو اورشاہد گرفتار ہوچکے ہیں، اسکول انتظامیہ کے افراد لاک ڈاؤن کے دوران پنجاب میں چھٹیاں گزار رہے تھے، ٹیچر ایوب چانڈیو کی غفلت بچوں کے مستقبل خراب کرنے کی وجہ بنی۔

ایس ایچ او ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن کلیم موسیٰ کے مطابق بچوں کے والدین کی جانب سے ایئرپورٹ تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا جس کے تحت مقدمے میں نامزد ملزم ایوب چانڈیو اورشاہد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

The post سی اے اے اسکول کی غفلت، 150 طلبا کو ترقی نہ مل سکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/342g3o4

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...