Skip to main content

کورونا وائرس کی مد میں حکومتی اخراجات کے تفصیلی آڈٹ کا فیصلہ

 اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان نےکورونا وائرس کی مد میں کئے جانےوالے حکومتی و سرکاری اخراجات کےآڈٹ  کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے کہا ہے کہ کوویڈ19سے متعلقہ اخراجات کا آڈٹ اس لئے بھی فوری طور پر ضروری ہوگیا ہے کہ اس میں حکومت ، میڈیا اور عوام سمیت تمام شراکت داروں کی دل چسپی ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا کرونا وائرس کی بیماری پر ہونے والے سرکاری اخراجات درست استعمال ہو رہے ہیں؟

آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات  کے مطابق ا اجلاس میں بتایا گیا کہ فروری 2020 میں جب سے پاکستان میں کرونا وائرس ظاہر ہوا ہے مالی معاملات شفافیت اور احتساب کویقینی بنانے کی حکومتی حکمت عملی کو موثر انداز میں نافذ کرنے کے لئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مقننہ اور انتظامیہ کی بر وقت آگاہی کے لئے محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کورونا اخراجات سے متعلق مختصر اور بر وقت رپورٹس تیار کرنے کا منصوبہ طے کیا ہے۔

فیصلہ کیا گیا  ہے کہ اشیا  اور خدمات کی خریداری ،اشتہارات اشیا کا ذخیرہ ، امدادی رقومات، قرنطینہ مراکز ، اسپتالوں کی طرف سے دی جانے والی خدمات سرکاری مراکز صحت ،ٹیسٹنگ ، راشن کی خریداری کے اخراجات  کے بشمول کورونا سے متعلقہ تمام ممکنہ اخراجات کی تفصیلی جانچ پڑتال ہوگی۔ ذیلی دفاتر ایف اے اوز تفصیلی طور پر ہر متعلقہ ادارے ،سرکاری ہسپتال اور ان مقامات کا آڈٹ کریں گے۔

جمعرات کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر کی زیر صدارت اجلاس میں ذیلی دفاتر بشمول ڈائریکٹر جنرل موسمی تبدیلی اور ماحولیات ڈائریکٹر جنرل سماجی تحفظ نے شرکت کی اور کورونا سے متعلقہ عمدہ آڈٹ رپوٹس کی تیاری کے لئے باہمی تعاون کی حکمت علمی پر زور دیا۔

The post کورونا وائرس کی مد میں حکومتی اخراجات کے تفصیلی آڈٹ کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QvEFPI

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...