Skip to main content

صرف ’سونگھ‘ کر کورونا وائرس کا سراغ لگانے والے کتے

میونخ: جرمن سائنسدانوں نے سراغ رساں کتوں کو اس انداز سے تربیت دی ہے کہ وہ کسی شخص سے لیے گئے نمونے کو صرف سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ اس میں کورونا وائرس موجود ہے یا نہیں۔ کورونا وائرس کا سراغ لگانے میں ان کتوں کی کارکردگی 94 فیصد ہے۔

اوپن ایکسس ریسرچ جرنل ’’بی ایم سی انفیکشس ڈزیزز‘‘ کے تازہ آن لائن شمارے میں جرمنی کی ہینوور یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک پائلٹ اسٹڈی شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 8 سراغ رساں کتوں کو اضافی طور پر کورونا وائرس سے متاثرہ نمونوں کو سونگھ کر شناخت کرنے کےلیے ایک ہفتے تک تربیت دی گئی۔

اس دورانِ انہیں لعابِ دہن (تھوک) اور پھیپھڑوں میں سے لیے گئے لعاب کے 1,012 نمونے سنگھا کر کورونا وائرس کی موجودگی شناخت کرنے کے قابل بنایا گیا۔

اگلے مرحلے میں آزمائش کی غرض سے ان کے سامنے کئی ایسے نمونے رکھے گئے جن میں سے کچھ صحت مند تھے اور کچھ ناول کورونا وائرس سے متاثرہ تھے۔ خود اس تجربے میں شریک افراد کو بھی ان نمونوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ ہیں یا غیر متاثرہ۔

کتوں کی کارکردگی حیرت انگیز رہی کیونکہ آزمائش میں انہوں نے 1,012 نمونوں میں سے 949 کو بالکل درست طور پر شناخت کیا؛ اور اس طرح صرف سونگھ کر کورونا وائرس کا سراغ لگانے میں ان کی کارکردگی 94 فیصد رہی۔

واضح رہے کہ حساس مقامات، بالخصوص ہوائی اڈوں پر کتوں کی مدد سے پوشیدہ دھماکا خیز مواد اور منشیات کا پتا لگانا آج ایک معمول کی بات ہے۔

کتوں میں سونگھنے کی اسی حیرت انگیز اور غیرمعمولی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب طبّی ماہرین نے بھی کوششیں شروع کردی ہیں کہ ان کی مدد سے کینسر اور ملیریا سمیت کئی بیماریوں کو بھی صرف سونگھ کر شناخت کیا جاسکے؛ کیونکہ اس سے وقت اور سرمائے، دونوں کی بہت بچت ہوگی۔

تاہم اب تک کتوں کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص باضابطہ طور پر اختیار نہیں کی جاسکی ہے۔ جرمن ماہرین کی کوشش بھی اگرچہ امید افزاء ہے لیکن ابھی اس کے وسیع تر پیمانے پر استعمال میں کئی دوسری پیچیدگیوں کا حل کرنا ضروری ہے۔

The post صرف ’سونگھ‘ کر کورونا وائرس کا سراغ لگانے والے کتے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب https://ift.tt/2P4i24e

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...