Skip to main content

پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ

لاہور: پنجاب کے مالی حالات کے پیش نظر رواں مالی سال بھی حکومت نے کفایت شعاری مہم اپنانے کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے سمری وزیراعلی پنجاب کو بھجوا دی گئی جس کی منظوری عید کی چھٹیوں کے بعد دیدی جائیگی۔

بزدار حکومت کی جانب سے اس بات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے کہ پنجاب میں کوئی اضافی اخراجات نہ کئے جائیں تاکہ پنجاب کو ضمنی بجٹ کی طرف نہ جانا پڑے ، پنجاب کے مالی ماہرین کے مطابق صوبوں کو اپنے رواں مالی سال کے بجٹ کو سرپلس رکھنا ہوگا اور اس کیلئے پنجاب کی جانب سے دوسرے صوبوں کی طرح اضافی اخراجات نہیں کئے جارہے اس وجہ سے سمری مالی سال 2020-21 منظوری کیلئے بھیجوائی گئی ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق سرکاری محکموں کی جانب سے کوئی سمپلمنٹری گرانٹس جاری نہیں کی جائیں انہیں اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اخراجات کرنا ہوں گے ، اگر کسی کو فنڈز کی ضرورت ہوگی تو اس کیلئے کابینہ، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ مالی امور سے منظوری لینا ہوگی ۔

نئی کفایت شعاری پالیسی کے مطابق کوئی بھی وزیر اور رکن اسمبلی سرکاری خرچوں پر بیرون ممالک نہیں جائے گا لیکن اگر انہوں نے جانا ہے تو اس کیلئے کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھا جائیگا اور اس کیلئے وزیراعلی کی باقائدہ منظوری لینا پڑیگی، اسی طرح بیرون ممالک میں علاج پر مکمل پابندی ہوگی اور اس کیلئے وزیراعلی منظوری دیں گے۔

سرکاری محکموں کی جانب سے مکمل طورپر درآمدی اور مقامی بننے والی گاڑیوں پر پابندی ہوگی اور اگر کسی نے گاڑی کی خریداری ضروری کرنا ہے تو اس کیلئے بھی وزیراعلی سے منظوری لینا ہوگی۔

The post پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XiIWtz

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...