Skip to main content

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

 لاہور:  وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے‘‘۔ان کے اس بیان نے میر ظفر اللہ جمالی کی یاد دلا دی۔

26 جون2004 کی جس شب جمالی صاحب نے وزارت اعظٰمی کے عہدے سے استعفی دیا تھا اسی روز صبح کے اخبارات کی لیڈ نیوز وزیر اعظم کا یہ بیان تھا کہ’’میں کہیں نہیں جا رہا،وزیر اعظم ظفر جمالی‘‘۔تحریک انصاف حکومت کے پایہ تخت اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔ اتحادی نگاہیں پھیر رہے ہیں لیکن سب سے اہم یہ کہ اپنوں کا شکوہ دل سے نکل کر اب زبان پر آگیا ہے اور وہ کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ویسے تو کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے کارکنوں اور چھوٹے رہنماوں کو زیادہ محبت اور قربت نہیں بخشی لیکن اس وقت جو حالت زار تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عام کارکن کی بات کرنے سے پہلے ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداروں کی حالت کا تذکرہ بھی اشد ضروری ہے۔ جن ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن سے قبل عمران خان اپنی طاقت اور اپنا سرمایہ قرار دیتے تھے اب وہ ’’راندہ درگاہ‘‘ قرار پا چکے ہیں ،ان کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

وزراء ان کا کام کرنا تو دور کی بات ان کا فون سننا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔چند ایک ٹکٹ ہولڈر جو اپنی انفرادی ساکھ اور افسروں تک رسائی رکھتے ہیں وہ اپنے کام براہ راست کروا لیتے ہیں۔ اس وقت دوطرز کی تحریک انصاف موجود ہے ۔پہلی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو نوازے جا چکے ہیں جو منتخب اراکین اسمبلی ہیں یا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں کم ازکم ضلعی سطح کے صدر یا جنرل سیکرٹری ہیں اور یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں پارٹی کے اندر موجود دھڑے بندی کی وجہ سے حکومتی محکموں میں چیئرمین، وائس چیئرمین  جیسے عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔

دوسری تحریک انصاف ان پر مشتمل ہے جنہوں نے بحیثیت کارکن سالہا سال سے کپتان کے دعووں اور وعدوں پر اندھا یقین کیا، لانگ مارچ ہو یا دھرنا، لاک ڈاون ہو یا جلسہ ہر جگہ اپنی جیب سے خرچ کر کے پارٹی کے ساتھ حق وفاداری نبھانے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ دو برس سے ان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے حکومتی تحریک انصاف کی بات کریں تو الیکشن جیتنے کی شام سے ہی ہر منتخب رکن اسمبلی خود کو وزیر سمجھنے لگ گیا تھا۔ حکومت کی تشکیل سازی میں بھی زیادہ تر وزراء ایسے لوگوں کو بنایا گیا جن کا پارٹی کی لئے کسی قسم کا نمایاں کام نہیں تھا اور آج یہی وزراء حکومت کی ناقص کارکردگی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ تحریک انصاف کے ہر طاقتور رہنما نے اپنے چہیتوں کو نوازا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے کی ذمہ دار ایجنسیوں سمیت سرکاری محکموں کے حکام اور میڈیا بخوبی جانتا ہے کہ غیر سرکاری عہدوں پر تعینات سیاسی افراد کی اکثریت(چند لوگ واقعی پارسا ہیں)نے کیا لوٹ مار مچا رکھی ہے۔

بالکل یہی صورتحال بعض وزراء کی بھی ہے جن کے بارے میں آئے روز نت نئی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن ارباب اختیار اتنے بے بس ہیں کہ ان کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت آج تک تو ہوئی نہیں۔ ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ روز اول سے سوتیلا پن برتا جا رہا ہے نہ تو وزیر ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی افسر شاہی ان کے کہنے پر کوئی کام کرتی ہے ۔جس ٹکٹ ہولڈر کی ’’اوپر‘‘ تک رسائی ہے یا وہ اپنی سیاسی یا مالی طاقت کے لحاظ سے تحریک انصاف کی بیساکھی کا مرہون منت نہیں ہے وہ تو اپنے کام اپنے زور بازو پر کروا لیتے ہیں۔

ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کا وعدہ کیا گیا لیکن کسی’’ذہین‘‘ نے یہ فارمولہ طے کردیا کہ فنڈز صرف اسی ٹکٹ ہولڈر کو ملیں گے جس نے 85 فیصد سے زائد ووٹ لیے ہوں گے ۔اس فارمولہ نے اکثریت کو فنڈز کیلئے’’نا اہل‘‘ بنا ڈالا ہے۔مثال کے طور پر لاہور جو گزشتہ 35 برس سے مسلم لیگ(ن) کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے اور تمام تر کمزوری کے باوجود آج بھی یہاں ان کا زور ہے وہاں کے ٹکٹ ہولڈرز کیلئے بھی 85 فیصد ووٹ کی شرط کا مطلب یہی ہے کہ’’اسے ہماری جانب سے انکار ہی سمجھا جائے‘‘۔

لاہور سمیت سنٹرل پنجاب بشمول فیصل آباد وغیرہ میں تو یہ شرح 70 فیصد سے بھی کم رکھنا چاہیے تھی۔لاہور میں ابھی تک گنتی کے چھ یا سات افراد کو ترقیاتی فنڈز ملے ہیں۔مرحوم نعیم الحق اپنی زندگی میں جمشید اقبال چیمہ سمیت چند دوسرے من پسند افراد کیلئے فنڈز کی زبانی منظوری تو کروا گئے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد ان لوگوں کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ تنظیمی عہدیداروںکی بات کی جائے تونچلی سطح پر تقرریوں کے نوٹیفیکیشن اندھے کی ریوڑیوں کی مانند بانٹے جا رہے ہیں اور یہ نوٹیفیکیشن لینے والے بھی کاغذ کا ٹکڑا لیکر خوش ہوجاتے ہیں ۔

ماسوائے چند بڑے تنظیمی عہدوں کے باقی کے سب تنظیمی عہدیدار’’فارغ‘‘ ہیں ۔ عام کارکن کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب جہانگیر ترین کو ’’ٹارگٹ ‘‘ کیا گیا ،کارکن نے گزشتہ دس برس میں جس شخص کو دن رات اپنی صحت اور کاروبار کی پرواہ کیئے بغیر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے انتھک محنت کرتے دیکھا، اپنی جیب سے اربوں روپے خرچ کرتے دیکھا ،حکومت بنانے کیلئے اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کیلئے جدوجہد کرتے دیکھا اب یہی کارکن جہانگیر ترین کو کیسے ’’چور‘‘ تسلیم کرلے اسے بھی معلوم ہے کہ یہ سب کچھ ایک بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ تو بھلا ہو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا جنہوں نے اپنی حد تک کارکنوں کی دلجوئی کیلئے ان سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

گورنر پنجاب ویسے بھی عوامی آدمی ہیں اور یہی ان کی خوبی بھی ہے اور طاقت بھی انہوں نے کورونا لاک ڈاون کے دوران 13 لاکھ خاندانوں میں 5 ارب روپے سے زائد مالیت کا راشن اور ادویات تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح عبدالعلیم خان اور ان کے قریبی ساتھی شعیب صدیقی نے لاہور میں نہ صرف اپنے حلقوں بلکہ دیگر حلقوں کے کارکنوں اور رہنماوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں اور جو کچھ ان کیلئے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں۔

اعجاز چوہدری نے صدر سنٹرل پنجاب کی حیثیت سے اچھا ’’ٹیک آف‘‘  کیا تھا لیکن ضلعی  وتحصیل تنظیموں کی صورتحال بہت خراب ہے،اول تو کوئی تنظیمی سرگرمی نہیں ہو رہی اور اگر کرنے کا سوچا جاتا ہے تو تمام تنظیم کو جمع کر کے ’’چندہ‘‘ جمع کرنے کی تنظیمی رسم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کے کارکن اور رہنما کو مایوسی سے باہر نکالا جائے، عزت اور اہمیت دی جائے کیونکہ اگر مستقل قریب میں ’’تبدیلی‘‘ آ گئی تو پھر نئے دھرنے کیلئے انہی کارکنوں سے قربانی مانگی جائے گی۔

The post پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CXQFWJ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...